صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 391
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۹۱ ۸۲ - كتاب القدر خَالِدٌ الْحَدَّاءُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ حذاء نے ہمیں خبر دی۔ خالد نے ابو عثمان نہدی النَّهْدِي عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ سے ، نہدی نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت کی۔ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اُنہوں نے کہا: ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ غَزَاةٍ فَجَعَلْنَا لَا نَصْعَدُ شَرَفًا وَلَا علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم جس بلندی پر چڑھتے نَعْلُو شَرَفًا وَلَا نَهْبِطُ فِي وَادٍ إِلَّا يا جس بلندی پر پہنچتے یا جس وادی میں اُترتے تو رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا بِالتَّكْبِيرِ قَالَ فَدَنَا مِنَّا اللہ اکبر کے نعرے سے ہم اپنی آوازیں بلند رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرتے۔ حضرت ابو موسیٰ کہتے تھے: (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب آئے فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى اور فرمایا: لوگو ! اپنے آپ کو سنبھال کر، آرام أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا سے، کیونکہ تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے اور نہ غَائِبًا إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا ثُمَّ ہی اسے جو غائب ہے۔ تم تو سمیع بصیر کو پکار رہے قَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أُعَلِّمُكَ ہو۔ پھر فرمایا: عبد اللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں ایک كَلِمَةً هِيَ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔ أطرافه : ۲۹۹۲ ، ٤۲۰۰، ٦٣٨٤، ٦٤٠٩، ٧٣٨٦۔ ہے وہ ہے: لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ یعنی نہ بدی سے بچنے کی طاقت ہے نہ ( نیکی کرنے کی ) قوت ، مگر اللہ ہی کی مددسے۔ تشریح : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله: نہ بدی سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ ہی کی مدد سے۔ امام بخاری نے کتاب الدعوات باب ۶۷ کا عنوان بھی لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ کے الفاظ سے قائم کیا ہے۔ وہاں ان دعائیہ کلمات کو دعوات کی مناسبت سے عنوانِ باب بنایا گیا ہے اور ایک جامع دعا کے طور پر پیش کیا گیا ہے مگر یہاں ابواب کی ترتیب میں امام بخاری نذر کی مناہی سے مفہوم مخالف کے طور پر صدقہ کی تحریک اور طریق کی طرف اشارہ کرنے کے بعد بلاؤں سے محفوظ رہنے کے لیے بندے کا اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنا اور اس یقین پر قائم ہونا کہ اُس میں نہ بدی سے بچنے کی کوئی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ ہی کی مدد سے۔ اس سے یہ بتایا کہ صدقہ و دعا سے اگر چہ ن اگر چه تقدیریں بدلتی ہیں بدلتی ہیں شر شریروں پر الٹائے جاتے ہیں اور خیر و برکت کا ابر کرم انسان پر برستا ہے مگر انسان صدقہ و خیرات کو اپنی ایسی طاقت اور قوت نہ سمجھ لے کہ اب تقدیر اس کے ہاتھ میں آگئی ہے