صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 390
صحیح البخاری جلد ۱۵ -Ar - كتاب القدر وقت میں یا مصیبتوں کو دور رکھنے کے لئے اور خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے کئے جاتے ہیں اس کی ایک قسم کو نذر کہتے ہیں اس میں اور عام صدقہ میں یہ فرق ہے کہ عام صدقہ تو اس خرچ کو کہتے ہیں جو ر ڈ بلاء کی امید میں کیا جاتا ہے اور نذر اس صدقہ کو کہتے ہیں جس کا وعدہ اس صورت میں کیا جائے کہ اگر فلاں مشکل ڈور ہو جائے یا فلاں کام ہو جائے تو یہ خرچ کروں گا یا فلاں عبادت بجالاؤں گا۔اس کا ذکر سورہ دھر رکوع اول میں ہے جہاں فرماتا ہے وَيُوفُونَ بِالنَّذْرِ مومن نذر کو پورا کرتے ہیں یعنی جب کسی خیرات یا نیک عمل کا عہد کرتے ہیں کہ رڈ بلا یا حصولِ مقصود کے بعد کریں گے تو اس عہد کو پورا کرتے ہیں صلحاء امت میں سے جو بڑے پایہ کے صلحاء گزرے ہیں ان کا خیال ہے کہ گو نذر کا پورا کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ ایک عہد ہے جو بندہ خدا تعالیٰ سے کرتا ہے لیکن اس طرح عہد کرنے سے کہ اگر خدا تعالیٰ فلاں مصیبت کو ٹلا دے تو اس اس قدر صدقہ کروں گا یہ بہتر ہے کہ پہلے ہی صدقہ کر کے اللہ تعالیٰ پر توکل کرلے بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ سے سودا کرنے کی کوشش کرے اور یہ خیال ان کا درست اور صحیح ہے امام بخاری نے امام مالک کے واسطہ سے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے قَالَ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلا يَعْصِهِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ایسی نذر مانے جس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہو تو اسے پورا کرے اور جو ایسی نذر مانے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو تو وہ نذر کو پورا کر کے نافرمانی نہ کرے۔“ (تفسير كبير، سورة البقرة، زير آيت وَمِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ جلد اول صفحه (۱۲۸) بَاب : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ نہ بدی سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ ہی کی مدد سے ٦٦١٠: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ٢٢١٠: محمد بن مقاتل ابوالحسن نے مجھ سے بیان أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا کیا کہ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔خالد (صحيح البخاری، کتاب الأيمان والنذور ، باب النذرِ في الطاعة، روایت نمبر ۶۶۹۶)