صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 382
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۸۲ ۸۲ - کتاب القدر قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ کی۔انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک الْأَرْضِ فَنَكَسَ وَقَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ چھڑی تھی جس کو آپ زمین پر آہستہ آہستہ مار أَحَدٍ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ رہے تھے۔پھر آپ نے سر جھکا لیا اور فرمایا: تم أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا ٹھکانہ آگ یا أَلَا نَتَّكِلُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ لَا اعْمَلُوا جنت میں مقرر نہ کر دیا گیا ہو تو لوگوں میں سے ایک شخص کہنے لگا: یا رسول اللہ ! کیا ہم بھروسہ نہ کریں۔آپ نے فرمایا: نہیں۔عمل کئے جاؤ ہر ایک کے لئے آسانی کی گئی ہے پھر آپ نے یہ فَكُلِّ مُيَسَّرٌ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَ اتَّقُى (الليل: ٦) الآية۔آیت پڑھی: پس جس نے (خدا کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔أطرافه : ١٣٦٢، ٤٩٤٥ ٤٩٤٦ ٤٩٤٧، ٤٩٤٨ ٤٩٤٩ ٦٢١٧، ٧٥٥٢۔ریح : وَكَانَ اَمرُ اللهِ قَدَرًا مقدورا: اور اللہ کا امر ایک ایسا اندازہ ہے جس کے حدود مقرر ہو چکے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ سے عزل کے متعلق پوچھا کہ اس بارہ میں آپ کا کیا حکم ہے فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَالِكَ الْوَادُ الْخَفِی۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بھی ایک واد خفی ہے۔یہ روایت مسلم نے سعید بن ابی ایوب سے اور مالک بن انس سے بھی نقل کی ہے اور ابو داؤد اور الترمذی اور النسائی نے یہ روایت الی الاسود سے روایت کی ہے۔اس روایت سے بعض لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب عزل بھی و آد خفی ہے تو یہ فعل بھی کسی سزا کا مستحق ہو نا چاہیے لیکن یہ بات روایت سے درست معلوم نہیں ہوتی۔اول تو اگر عزل منع ہے اس وجہ سے کہ عزل و اد شفی ہے تو پھر حاملہ سے جماع بھی منع ہونا چاہیئے مگر حمل کے ایام میں جماع کی حرمت کہیں سے ثابت نہیں حالانکہ وہ و او قطعی اور یقینی ہے۔دوسرے عزل کے جائز ہونے کے متعلق بھی احادیث آتی ہیں مثلاً ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ