صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 359
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۵۹ ۸۱ - کتاب الرقاق الآنَ وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَإِنِّي وَاللَّهِ يا فرمايا: زمین کی چابیاں دی گئی ہیں اور مجھے بخدا مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي تمہارے متعلق یہ ڈر نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا جاؤ گے مگر تمہارے متعلق یہ ڈر ہے کہ کہیں ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا کی لالچ میں نہ پڑ جاؤ۔فِيهَا۔أطرافه : ١٣٤٤ ٣٥٩٦ ٤٠٤٢، ٤٠٨٥ ٦٤٢٦- ٦٥٩١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۶۵۹۱ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حرمی بن عمارہ نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ہم سے عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بیان کیا۔شعبہ نے معبد بن خالد سے روایت کی۔بْنَ وَهْبٍ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى انہوں نے حضرت حارثہ بن وہب سے سنا۔وہ کہتے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْحَوْضَ تھے : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فَقَالَ كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَصَنْعَاءَ۔حوض کا ذکر کیا فرمایا۔اتنا ہی ہے جتنا مدینہ اور صنعاء کے درمیان فاصلہ ہے ٦٥٩٢ : وَزَادَ ابْنُ أَبِي عَدِيّ عَنْ ۶۵۹۲ اور ابن ابی عدی نے شعبہ سے، شعبہ نے شُعْبَةَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَارِثَةَ معبد بن خالد سے، معبد نے حضرت حارثہ (بن سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہب سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا کہ قَالَ حَوْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ انہوں ے نبی مئی تعلیم سے آپ کی یہ بات سنی کہ فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ أَلَمْ تَسْمَعْهُ قَالَ آپ کا حوض اتنا ہے جتنا صنعاء اور مدینہ کے الْأَوَانِي قَالَ لَا قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ تُرَی درمیان فاصلہ ہے۔تو حضرت مستورڈ نے اُن سے فِيهِ الْآنِيَةُ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ۔کہا: کیا تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ برتنوں کا بھی ذکر کیا ہو ؟ انہوں نے کہا: نہیں۔حضرت مستور ڈ نے کہا: اس حدیث میں تو یہ بھی تھا کہ برتن ستاروں کی طرح ہوں گے۔