صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 151 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 151

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۵۱ ٨٠ - كتاب الدعوات حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ پر لعنت نازل فرما۔ یہاں تک کہ اللہ عز وجل نے مِنَ الْأَمْرِ شَيْء (آل عمران: ۱۲۹)۔ یہ وحی نازل کی: تمہارا اس امر میں کوئی دخل نہیں۔ ٦٣٩٢ : حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا ۶۳۹۲: (محمد) بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (اسماعیل) ابن ابی خالد سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عَنْهُمَا قَالَ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ (عبد اللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ فَقَالَ ے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قوموں اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ کے مغلوب ہونے کی دعا کی جو جنگ احزاب میں شریک ہوئی تھیں۔ آپ نے کہا: اے اللہ ! کتاب اهْزِمِ الْأَحْزَابَ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ۔ کے نازل کرنے والے، بہت جلدی حساب لینے والے، ان فوجوں کو شکست دے، ان فوجوں کو بھگا اور ان کے پاؤں اکھیڑ دے۔ أطرافه: ۲۹۳۳، ۲۹۶۵، ۳۰۲۵، ٤١١٥، ٧٤٨٩۔ ٦٣٩٣ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ۶۳۹۳: معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ عَنْ ہشام بن ابی عبداللہ (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ انہوں نے بچی ( بن ابی کثیر ) سے ، بچی نے ابو سلمہ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بن عبدالرحمن) سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ جب عشاء کی نماز کی آخری رکعت میں سمیع الله لمن حمدہ کہتے تو کھڑے ہو کر یوں دعا کرتے: قَنَتَ اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاسَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ الله ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ اسلمہ بن أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامِ اللَّهُمَّ أَنْجِ ہشام کو نجات دے (اور) اے اللہ ! ان مؤمنوں الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ کو نجات دے جنہیں کمزور سمجھا جاتا ہے ، اے اللہ !