صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 125
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۲۵ ٨٠ - كتاب الدعوات تمہارا مال تمہارے واسطے ہلاکت اور ٹھوکر کا باعث نہ ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اُسے دین کی اشاعت اور خدمت کے لیے وقف کرو۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحه (۵۹۴) باب ٤٦ : التَّعَوُّذُ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ محتاجی کے فتنے سے پناہ مانگنا ٦٣٧٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۱۳۷۷ : محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ابو معاویہ نے ہمیں خبر دی۔ ہشام بن عروہ نے عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ہمیں بتایا۔ ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ آپ بیان کرتی تھیں : بی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : اے اللہ ! میں تیری پناہ لیتا ہوں آگ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى کے فتنے سے اور آگ کے عذاب سے ، قبر کے فتنے سے اور قبر کے عذاب سے اور دولتمندی کے فتنے وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ کے شر سے اور محتاجی کے فتنے کے شر سے۔ اے مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ الله ! میں مسیح دجال کے فتنے کے شر سے بھی تیری اغْسِلْ قَلْبِي بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِ پناہ لیتا ہوں۔ اے اللہ ! میرے دل کو برف اور قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ اولوں کے پانی سے دھو ڈال اور میرے دل کو تمام الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي خطاؤں سے پاک و صاف کر دے اسی طرح جس وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ طرح کہ تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک وصاف الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ کیا ہے اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔ اتنی دوری ڈال جتنی دوری تو نے مشرق و مغرب میں ڈال رکھی ہے۔ اے اللہ ! میں سستی سے اور ان باتوں سے جو گناہ کا موجب ہوں اور ان باتوں سے جو چٹی کا موجب ہوں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ أطرافه: ۸۳۲، ۸۳۳، ٢۳۹۷ ، ٦٣٦٨ ، ٦٣٧٥، ٦٣٧٦، ٧١٢٩-