صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 728
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۲۸ ۷۹- كتاب الاستئذان لَهُوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ایسے بھی ہیں جو بے ہودہ بات اختیار کرتے ہیں (لقمان: ۷) تا کہ اللہ کی راہ سے گمراہ کریں۔ ٦٣٠١ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۶۳۰۱ : يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ کہا: حميد بن عبدالرحمن نے مجھے خبر دی کہ حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ خَلَفَ مِنْكُمْ ابوہریرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى فَلْيَقُلْ فرمایا: تم میں سے جو کوئی قسم کھائے اور اپنی قسم لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ میں لات اور عزیٰ کا نام لے تو وہ لا إِلهَ إِلَّا الله کا اقرار کرے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ۔ أطرافه: ٤٨٦٠، 6107، ٦٦٥٠۔ میں تم سے جو اکھیلوں تو وہ صدقہ دے۔ تشريح : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهُوَ الْحَدِيثِ یعنی لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو بے ہودہ بات اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهُوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَ يَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ (لقمان:۷) اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنا روپیہ ضائع کر کے) کھیل تماشہ کی باتیں لیتے رہتے ہیں تاکہ بغیر علم کے لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکیں اور اس (یعنی اللہ کے راستہ) کو ہنسی کے قابل چیز بنا لیتے ہیں ان لوگوں کے لئے ذلت والا عذاب ہوگا۔ (ترجمه تفسیر صغیر) آج کے زمانہ میں نئی ایجادات ٹی وی، انٹر نیٹ اور کھیلوں کے بہت سے مشاغل انسان کو اپنی چمک اور کشش میں اس طرح جکڑتے جارہے ہیں کہ گھنٹوں بلکہ سارا سارا دن اور ساری ساری رات ایک بہت بڑی تعداد مردوں، عورتوں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ہے جو اس انہماک سے ان مشاغل میں لگے ہوتے ہیں کہ ساتھ والے کے حال سے غافل اور بے نیاز ہوتے ہیں۔ بار بار دیکھا گیا ہے کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے پانچ چھ افراد ہر ایک اپنے اپنے موبائل کے ساتھ مصروف ہے۔ رشتوں کی پہچان، قدر اور بے شمار انسانی قدروں کو اس عادت نے ختم کر دیا ہے۔ مطالعہ کتب یا ذکر الہی، تنہائی میں دعا کرنے اور اپنے خالق و مالک کے حضور حاضر ہونے اور محبت الہی اور خشیت اللہ سے آبدیدہ ہونے کے اعلی روحانی مواقع اب ان فضول اور بے کار مشاغل کی نظر ہو گئے ہیں۔ اسی امر کا زیر باب آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔