صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 689
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۸۹ ۷۹- كتاب الاستئذان ٦٢٥٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۶۲۵۷ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد اللہ بن دینار عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ سے ، عبد اللہ بن دینار نے حضرت عبد اللہ بن عمر رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ فَإِنَّمَا يَقُولُ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب یہود تمہیں سلام کریں۔ ان میں سے ایک یہی کہتا ہے : السَّامُ عَلَيْكُمْ۔ أَحَدُهُمْ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ وَعَلَيْكَ۔ تم کہو: وَعَلَيْكَ یعنی تم ہی پر۔ طرفه: ٦٩٢٨- ٦٢٥٨ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي ۶۲۵۸: عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ ہشیم نے ہمیں بتایا کہ عبید اللہ بن ابی بکر بن انس بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ نے ہم سے بیان کیا۔ حضرت انس بن مالک رضی مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ اللہ عنہ نے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے : نبی صلی اللہ علیہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ وَسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ۔ تم کہو : وَعَلَيْكُمْ ۔ یعنی تم ہی پر ۔ طرفه: ٦٩٢٦- تشريح : كَيْفَ الرَّدُّ عَلَى أَهْلِ الدِّمَةِ بِالسّلام : دمی کو سلام کا جواب کیونکر دیا جائے۔ علامہ ابن حجر اور علامہ بدرالدین عینی دونوں بیان کرتے ہیں کہ عنوان باب میں یہ اشارہ ہے کہ اہل ذمہ کے سلام کا جواب دینا منع نہیں ہے اس لئے عنوان باب میں گیف سے سلام کے جواب کی کیفیت کا بیان ہے نہ کہ مناہی کا اور اس کی تائید قرآن کریم کی آیت وَإِذَا حُمِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا (النساء: ۸۷) سے ہوتی ہے کہ کوئی سلام کا تحفہ دے تو اس جیسا یا اس سے بہتر جواب دینے کا حکم ہے اور اس کی وضاحت میں وہ حضرت ابن عباس کی ایک روایت لائے ہیں جس میں یہ ذکر ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا: مَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ فَرُدَّ عَلَيْهِ وَلَوْ كان مجوسیا کہ جو تمہیں سلام کرے اس کا جواب دو چاہے سلام کرنے والا مجوسی ہو۔ امام مالک اور جمہور کے نزدیک ذمی کے سلام کا جواب دینا منع ہے اور عطاء کہتے ہیں: یہ آیت ( وَ إِذَا حُمِّيْتُمْ بِتَحِيَّة ) مسلمانوں کے لئے مخصوص ہے۔ (فتح الباری جزءا اصفحہ (۵) مگر اس کی انہوں نے کوئی دلیل نہیں دی۔ ابن ابطال کہتے ہیں ایک گروہ نے کہا ہے کہ اس آیت کا عام مفہوم یہ ہے کہ اہل ذمہ کے سلام کا جواب دینا فرض ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۲۴۸) الرابع : اور اگر تمہیں کوئی خیر ۔ خیر سگالی کا تحفہ پیش کیا جائے تو اس سے بہتر پیش ترجمه حضرت خليفة المسيح الراب کیا کر دیا وہی لوٹا دو۔“