صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 690
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۹۰ ۷۹ - كتاب الاستئذان باب ۲۳ مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ مَنْ يُحْذَرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ لِيَسْتَبِينَ أَمْرُهُ جس شخص سے مسلمانوں کو اندیشہ ہو اس کے خط کو جس نے دیکھا تا کہ اس کی اصل حقیقت معلوم ہو ٦٢٥٩: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ بُهْلُولٍ :۶۲۵۹: یوسف بن بہلول نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ حَدَّثَنِي (عبدالله) بن اور میں نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: مجھے حصین بن عبد الرحمن نے بتایا۔حصین نے حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعْدِ سعد بن عبیدہ سے ، سعد نے ابو عبد الرحمن سلمی سے، بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ سلمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی الم نے مجھے اور زبیر بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن عوام اور ابو مرثد غنوی کو بھیجا اور ہم میں سے وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ ہر ایک شہسوار تھا۔آپ نے فرمایا: چلے جاؤ یہاں وَكُلُّنَا فَارِسٌ فَقَالَ انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا تک کہ جب روضہ خارج میں پہنچو تو وہاں مشرکوں کی ایک عورت ہے اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ رَوْضَةَ حَاخِ فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةٌ مِّنَ سے مشرکوں کے نام ایک خط ہے۔حضرت علی الْمُشْرِكِينَ مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِّنْ حَاطِبِ کہتے تھے : ہم نے اس کو وہیں پایا جہاں رسول اللہ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ قَالَ عَلى ال م نے ہم سے فرمایا تھا، اپنے ایک اونٹ پر سوار فَأَدْرَكْنَاهَا تَسِيرُ عَلَى جَمَل لَهَا حَيْثُ جارہی تھی۔کہتے تھے ، ہم نے کہا: وہ خط کہاں قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے جو تمہارے پاس ہے ؟ کہنے لگی: میرے پاس وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي تو کوئی خط نہیں۔ہم نے اُس کا اونٹ بٹھا دیا اور ہم اس کے کجاوے میں ڈھونڈنے لگے مگر ہم نے کچھ نہ بِهَا پایا۔میرے دونوں ساتھیوں نے کہا: ہم تو کوئی مَعَكِ قَالَتْ مَا مَعِي كِتَابٌ فَأَنَحْنَا فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا فَمَا وَجَدْنَا شَيْئًا خط نہیں دیکھتے۔حضرت علی کہتے تھے: میں نے قَالَ صَاحِبَايَ مَا نَرَى كِتَابًا قَالَ قُلْتُ کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی ا ہم نے