صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 672
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۷۲ ۷۹- كتاب الاستئذان الله عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نبی صلی الی ایم کی زوجہ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مجھے قَالَتْ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عمر بن خطاب رسول اللہ صلی علیم سے کہا احْجُبْ نِسَاءَكَ قَالَتْ فَلَمْ يَفْعَلْ وَكَانَ کرتے تھے: اپنی ازواج سے پردہ کرائیں۔ فرماتی أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم تھیں مگر آپ نے ایسانہ کیا اور بی یا اسلام کی از ہی ازواج يَخْرُجْنَ لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ رات کو ہی مناصع کی طرف جایا کرتی تھیں۔ یا۔ حضرت فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةً وَكَانَتِ سودہ بنت زمعہ نکلیں اور وہ دراز قامت عورت تھیں تو حضرت عمر بن خطاب نے انہیں دیکھ لیا۔ 60 امْرَأَةً طَوِيلَةً فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وہ کی مجلس میں تھے ۔ ے۔ کہتے تھے: سودہ! میں نے وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ فَقَالَ عَرَفْنَاكِ يَا تمہیں میں پہچان لیا ہے۔ اس لئے کہ انہیں یہ ؟ ں یہ بہت ہی يَا سَوْدَةُ حِرْضًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ خواہش تھی کہ پردے کا حکم نازل کیا جائے۔ فرماتی الْحِجَابُ قَالَتْ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ تھیں: پھر اللہ عز و جل نے وہ آیت نازل کی جس الْحِجَاب۔ میں حجاب کا حکم ہوا۔ أطرافه: ١٤٣، ١٤٧، ٤٧٩٥، ٥٢٣٧۔ تشریح : آية الحجاب : یعنی پردے کا حکم ۔ شخصی آزادی کا فی زمانہ بہت واویلا کیا جاتا ہے اور اس آزادی کے نام پر عورت کی عزت و وقار کو تار تار کر دیا گیا ہے اور اس ظالمانہ کارروائی میں عورتوں کو ہی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور عورت کے پردے کو جو کہ اس کا تحفظ اور وقار قائم کرتا ہے اس سے اسے محروم کر کے مردوں نے اپنی نظروں کی ہوس کا نشانہ بنا کر عورتوں کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے۔ اسلام اپنے روشن اصولوں میں برائی کی جڑ کو پکڑتا ہے اور مردوں عورتوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ غض بصر سے کام لیں اور ایک دوسرے کو بے محابا نہ دیکھیں اور باہمی اختلاط اور نامحرموں کے تنہائی میں ملنے اور اکٹھا ہونے کو منع کرتا ہے۔ انہی معاشرتی آداب کا ایک حصہ گھر یلوزندگی سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی کسی دوسرے کے گھر اس کی اجازت کے بغیر داخل ہو۔ بلکہ باہر سے اندر جھانکنے کو بھی بہت معیوب اور ناپاک فعل قرار دیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علہ وسلم نے ایک دفعہ ایک شخص کو اپنے گھر جھانکتے ہوئے دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا: اگر میں جانتا کہ تم دیکھ رہے ہو تو میں ضرور وہی (پشت خار) تمہاری آنکھ میں چھو دیتا۔ (بخاری، کتاب الاستئذان، باب الاستئذان مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ ، روایت نمبر ۶۲۴۱) 1۔ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں لفظ ”عرفتك “ ہے۔ ( فتح الباری جزءا اصفحہ ۲۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔