صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 658 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 658

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۵۸ ۷۹- كتاب الاستئذان عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اور مالی قربانیاں۔ اے نبی تجھ پر سلامتی ہو اور اللہ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ الله کی رحمت اور برکت ہو۔ ہم پر سلامتی ہو اور اللہ الصَّالِحِينَ فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ أَصَابَ کے نیک بندوں پر۔ کیونکہ جب وہ یوں کہے گا تو كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ہر نیک بندے کو جو آسمان اور زمین میں ہے یہ دعا أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ پہنچے گی۔ پھر یہ کہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَتَخَيَّرْ بَعْدُ کے سوا کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ مِنَ الْكَلَامِ مَا شَاءَ۔ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر اس کے بعد بہتر سے بہتر دعا جو مانگنا چاہے مانگے۔ أطرافه: ۸۳۱، ۸۳۵، ۱۲۰۲، ٦٢٦٥، ٦٣٢٨، ٧٣٨١۔ تشريح : السَّلَامُ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى: السلام اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ ہمارا خدا السلام ہے ہمارا مذہب السلام ہے ہمارا ملنے جلنے کا شعار السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ہے اور اس میں جان پہچان اور اپنے وغیر کی بھی کوئی تقسیم نہیں بلکہ ہر ایک کو السّلامُ عَلَيْكُمْ کہنے کا حکم ہے۔ اور نہ صرف زندہ انسانوں کے تعلق میں۔ تعلق میں یہ ہمارا شعار ہے بلکہ قبرستان میں داخل ہوتے ہوئے ؟ میں داخل ہوتے ہوئے بھی ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کہو: السلام عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُور - گفتگو کا آغاز کرنے سے پہلے بھی یہ حکم ہے : السَّلامُ قَبْلَ الكَلَام کے سلام نے سلامتی اور امن کا یہ جھنڈا دنیا کے کسی مذہب کسی شریعت اور کسی اخلاقی تعلیم میں موجود نہیں۔ اس کے باوجود آج کی ”تہذیب“ کے پروردہ امن اور سلامتی کے اس مذہب کو دہشت گردی اور ظلم و ستم کا نام دیتے ہیں۔ ”جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ رشمه ساز کرے۔“ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کے نام ” السلام “ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا ایک نام السّلام ہے۔ قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے اس لفظ سلام کو مختلف پیرایوں میں استعمال فرمایا ہے۔ اپنی صفت کے حوالے سے بھی بیان فرمایا ہے اور مومنوں کو اس صفت کو اختیار کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بھی فرمایا ہے۔ اس کے معانی مختلف مفسرین اور اہل لغت نے کئے ہیں۔ تفسیر الطبری میں ا (سنن الترمذی، ابواب الجنائز، باب ما يقول الرجل إِذَا دَخَلَ الْمَقَابِر ) (سنن الترمذی، ابواب الاستئذان، باب مَا جَاءَ فِي السَّلَامِ قَبْلَ الْكَلَام )