صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 634
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۳۴ ۷۸ - كتاب الأدب باب ۱۱۷ : قَوْلُ الرَّجُلِ لِلشَّيْءِ لَيْسَ بِشَيْءٍ آدمی کا کسی چیز کے متعلق یہ کہنا کہ یہ کچھ نہیں وَهُوَ يَنْوِي أَنَّهُ لَيْسَ بِحَقِّ۔ اور وہ یہ نیت رکھتا ہو کہ یہ سچ نہیں۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ اور حضرت ابن عباس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَبْرَيْنِ يُعَذِّبَانِ بِلَا كَبِيرٍ نے دو قبروں کے متعلق فرمایا: انہیں کسی بڑے وَإِنَّهُ لَكَبِيرٌ۔ گناہ کی وجہ سے سزا نہیں دی جارہی ہے اور وہ بڑا بھی ہے۔ ٦٢١٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ۶۲۱۳ : محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ مخلد أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ بن یزید نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ہمیں خبر جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى دی۔ ابن شہاب نے کہا: یحییٰ بن عروہ نے ہم سے بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يَقُولُ قَالَتْ بیان کیا کہ انہوں نے عروہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: عَائِشَةُ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت عائشہ نے کہا: کچھ لوگوں نے رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق پوچھا تو رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسُوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: وہ کچھ بھی نہیں۔ وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ ! وہ کبھی کبھی بِشَيْءٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا کوئی بات بتاتے ات بتاتے ہیں جو سچی ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بات جو سچی ہوتی ہے فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنِّی اس کو جھپٹ کر اُڑالیتا ہے اور پھر اسے اپنے تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ دوست کے کان میں اسی طرح ڈال دیتا ہے جس فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيْهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ طرح مرغی کڑ کڑ کرتی ہے تو وہ اس میں سو سے بھی فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذَّبَةٍ۔ زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ أطرافه: ۳۲۱۰، ۳۲۸۸، ٥٧٦٢، ٧٥٦١-