صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 626
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۲۶ ۷۸ - كتاب الأدب لَأَبُو تُرَابِ وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ أَنْ میں سے سب سے پیار انام ان کو ابو تراب تھا اور يُدْعَى بِهَا وَمَا سَمَّاهُ أَبُو تُرَابٍ إِلَّا وہ بہت ہی خوش ہوا کرتے تھے جو اُنہیں اس نام النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَاضَبَ سے پکارا جاتا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اُن يَوْمًا فَاطِمَةَ فَخَرَجَ فَاضْطَجَعَ إِلَى کا نام ابو تراب رکھا۔ ایک دن وہ حضرت فاطمہ الْجِدَارِ فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَهُ النَّبِيُّ سے ناراض ہو کر باہر چلے آئے اور مسجد میں دیوار صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُهُ فَقَالَ کے ساتھ لگ کر لیٹ گئے۔ اتنے میں نبی صلی اللہ هُوَ ذَا مُضْطَجِعُ فِي الْجِدَارِ فَجَاءَهُ علیہ وسلم آئے اور ان کے پیچھے گئے۔ کسی نے کہا: وہ یہ دیوار کے ساتھ لیٹے ہوئے ہیں۔ نبی صلی اللہ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْتَلَا ظَهْرُهُ تُرَابًا فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى الله علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور ان کی پیٹھ مٹی سے بھر گئی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی پیٹھ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ التَّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ مٹی پونچھنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: ابو تراب! وَيَقُولُ اجْلِسْ يَا أَبَا تُرَابٍ۔ أطرافه: ٤٤١ ، ٣٧٠٣، ٦٢٨٠۔ اُٹھ بیٹھو۔ باب ١١٤: أَبْغَضُ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ جو نام اللہ کو نہایت ہی ناپسند ہیں ٦٢٠٥ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۶۲۰۵ : ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ نے ہمیں بتایا۔ ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْنَى الْأَسْمَاءِ ابو ہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک نہایت گھٹو نانام اُس شخص کا ہے جو اپنا مَلِكَ الْأَمْلَاكِ۔ طرفه: ٦٢٠٦ - نام شہنشاہ رکھواتا ہے۔ ٦٢٠٦ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۶۲۰۶ : علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ