صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 619 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 619

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۱۹ ۷۸ - كتاب الأدب اسْمُهَا بَرَّةَ فَقِيلَ تُزَكِّي نَفْسَهَا که حضرت زینب ( بنت ابی سلمہ) کا نام بڑہ تھا۔ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (ان سے) کسی نے کہا: اپنے آپ کو پاک سمجھتی وَسَلَّمَ زَيْنَبَ۔ ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔ ٦١٩٣ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۶۱۹۳ : ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ہشام بن یوسف) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ نے انہیں خبر دی۔ کہا: عبد الحمید بن جبیر بن شیبہ بْنِ شَيْبَةَ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ نے مجھے بتایا۔ کہا: میں سعید بن مسیب کے پاس الْمُسَيَّبِ فَحَدَّثَنِي أَنَّ جَدَّهُ حَزْنًا بیٹھا۔ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ اُن کا دادا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حزن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے فَقَالَ مَا اسْمُكَ قَالَ اسْمِي حَزْنُ پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میر انام حزن ہے۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں، تم سہل ہو۔ کہنے قَالَ بَلْ أَنْتَ سَهْلَ قَالَ مَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ فَمَا زَالَتْ فِينَا الْحُزُونَةُ بَعْدُ۔ طرفه: ٦١٩٠ - لگا: میں تو نام بدلنے کا نہیں جو نام میرے باپ نے میر ارکھا۔ ابن مسیب کہتے تھے : پھر اس کے بعد ہم میں ہمیشہ ہی مصیبت اور سختی رہی۔ تشریح : تَحْوِيلُ الاسْمِ إِلَى اسْمِ أَحْسَنَ مِنْهُ: ایک نام کا دور ن منه: ایک نام کا دوسرے نام میں جو اُس سے اچھا ہو تبدیل کرنا۔ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم تفاؤل کے طور پر اچھے نام بچوں کے رکھا کرتے تھے اور آپ کو بھی اپنے بچوں کے نام محض سننے میں، خوبصورت نہ ہوں بلکہ معنی خیز ہوں اور بہت اچھے نام ہوں، ایسے نام رکھنے چاہئیں۔ بچہ بھی بسا اوقات اپنے نام کے مطابق ہی بنتا ہے۔“ " (الازهار لذوات الخمار ، خطاب لجنہ اماء الله بر موقع جلسہ سالانہ جرمنی، ۲۵، اگست ۲۰۰۱ء، جلد ۲ صفحه ۶۸۵)