صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 615
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۱۵ ۷۸ - كتاب الأدب بَاب ١٠٥ : أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اللہ عزوجل کو جو نام نہایت ہی پیارے ہیں ٦١٨٦ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۶۱۸۶: صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ (سفیان) ابن عیینہ نے ہمیں خبر دی۔ (محمد) ابن عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُلِدَ منکدر نے ہم سے بیان کیا۔ محمد نے حضرت جابر لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقُلْنَا رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم لَا تَكْبِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا كَرَامَةَ میں سے کسی شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور ا اُس فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اُس کا نام قاسم رکھا۔ ہم نے کہا: ہم تو تمہیں ابوالقاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے اور نہ فَقَالَ سَمِّ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ۔ تمہیں یہ عزت دیں گے۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا۔ آپؐ نے فرمایا: تم اپنے بیٹے کا نام عبد الرحمن رکھو۔ أطرافه: ۳۱۱٤، ۳۱۱۰، ۳۵۳۸ ، ۶۱۸۷، 6189، 6196۔ باب ١٠٦ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوا بِكُنْيَتِي نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: تم میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو قَالَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ کی۔ روایت ٦١٨٧ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ ۶۱۸۷: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ خالد نے حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرٍ ہمیں بتایا۔ حصین نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا سالم سے، سالم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے غُلَامٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقَالُوا لَا نَكْنِيهِ روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اُس نے اس کا نام قاسم رکھا۔