صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 601
صحیح البخاری جلد ۱۴ ٢٠١ ۷۸ - كتاب الأدب انسانوں کے دلوں میں ایک سچی محبت اس کی ڈال دی جاتی ہے اور ایک قوت جذب اس کو عنایت ہوتی ہے اور ایک نور اس کو دیا جاتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب ایک انسان سچے دل سے خدا سے محبت کرتا ہے اور تمام دنیا پر اس کو اختیار کر لیتا ہے اور غیر اللہ کی عظمت اور وجاہت اس کے دل میں باقی نہیں رہتی بلکہ سب کو ایک مرے ہوئے کیڑے سے بھی بدتر سمجھتا ہے تب خدا جو اس کے دل کو دیکھتا ہے ایک بھاری بجلی کے ساتھ اس پر نازل ہوتا ہے اور جس طرح ایک تجلی صاف آئینہ میں جو آفتاب کے مقابل پر رکھا گیا ہے آفتاب کا عکس ایسے پورے طور پر پڑتا ہے کہ مجاز اور استعارہ کے رنگ میں کہہ سکتے ہیں کہ وہی آفتاب جو آسمان پر ہے اس آئینہ میں بھی موجود ہے۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۴ ، ۶۵) نیز آپ نے فرمایا: اگر تم اللہ کے پیارے بننا چاہتے ہو تو رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کی پیروی کرو وہ ہادی کامل وہی رسول ہیں جنہوں نے وہ مصائب اُٹھائیں کہ دنیا اپنے اندر نظیر نہیں رکھتی۔ ایک دن بھی آرام نہ پایا۔ اب پیروی کرنے والے بھی حقیقی طور سے وہی ہوں گے جو اپنے متبوع کے ہر قول و فعل کی پیروی پوری جدوجہد سے کریں۔ متبع وہی ہے جو سب طرح پیروی کرے گا۔ سہل انگار اور سخت گزار کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے غضب میں آوے گا۔ یہاں جو اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا حکم دیا تو سالک کا کام یہ ہونا چاہئیے کہ اول رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل تاریخ دیکھے اور پھر پیروی کرے۔ اسی کا نام سلوک ہے۔ اس راہ میں بہت مصائب و شدائد ہوتے ہیں ان سب کو اُٹھانے کے بعد ہی انسان سالک ہوتا ہے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۷) باب ۹۷ : قَوْلُ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ اخْسَأْ کسی آدمی کا کسی آدمی سے یہ کہنا چل دور ہو اسے ٦١٧٢: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۶۱۷۲: ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ سلم بن زریر سَلَمُ بْنُ زَرِيرٍ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ سَمِعْتُ نے ہمیں بتایا۔ میں نے ابور جاء سے سنا۔ (انہوں