صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 566
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۶۶ ۷۸ - كتاب الأدب بَاب ۸۷: مَا يُكْرَهُ مِنَ الْغَضَبِ وَالْجَزَعِ عِنْدَ الضَّيْفِ مہمان کے سامنے ناراضگی اور گھبراہٹ کا اظہار کرنا جو نا پسندیدہ ہے ٦١٤٠ : حَدَّثَنَا عَيَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۲۱۴۰: عياش بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا۔ سعید جریری نے ہم سے عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بیان کیا۔ سعید نے ابو عثمان سے، ابو عثمان نے أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے تَضَيَّفَ رَهْطًا فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ روایت کی کہ حضرت ابو ؟ ابو بکر نے چند لوگوں کی دُونَكَ أَضْيَافَكَ فَإِنِّي مُنْطَلِقَ إِلَى ضيافت کی اور عبدالرحمن سے کہا: اپنے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَافْرُغْ مہمانوں کا خیال رکھنا کیونکہ میں نبیصلی اللہ علیہ وسلم مِنْ قِرَاهُمْ قَبْلَ أَنْ أَجِيءَ فَانْطَلَقَ کے پاس جا رہا ہوں۔ میرے آنے سے پہلے عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَتَاهُمْ بِمَا عِنْدَهُ فَقَالَ پہلے ان کی مہمانی سے فارغ ہو جاتا۔ عبد الرحمن اطْعَمُوا فَقَالُوا أَيْنَ رَبُّ مَنْزِلِنَا قَالَ گئے اور ان کے پاس ما حضر لائے اور کہنے لگے: کھانا اطْعَمُوا قَالُوا مَا نَحْنُ بِآكِلِينَ حَتَّى کھالیں۔ انہوں نے کہا: صاحب خانہ کہاں ہیں ؟ عبد الرحمن نے کہا: آپ کھائیے۔ وہ بولے: يَجِيءَ رَبُّ مَنْزِلِنَا قَالَ اقْبَلُوا عَنَّا ہم تو نہیں کھائیں گے جب تک کہ ہمارے قِرَاكُمْ فَإِنَّهُ إِنْ جَاءَ وَلَمْ تَطْعَمُوا لَتَلْقَيَنَّ مِنْهُ فَأَبَوْا فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يَجِدُ رم صاحب خانہ نہ آجائیں۔ عبدالرحمن نے کہا: آپ ہم سے جو آپ کی مہمانی ہے قبول کیجئے کیونکہ اگر عَلَيَّ فَلَمَّا جَاءَ تَنَجَّيْتُ عَنْهُ فَقَالَ مَا وہ آئے اور آپ نے کھانا نہ کھایا تو ہمیں ان سے صَنَعْتُمْ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ڈانٹ پڑے گی۔ انہوں نے نہ مانا اور میں سمجھا کہ فَسَكَتْ ثُمَّ قَالَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ حضرت ابو بکر مجھ پر ناراض ہوں گے۔ جب وہ فَسَكَتُ فَقَالَ يَا غُنْشَرُ أَقْسَمْتُ آئے تو میں اُن سے ایک طرف ہو گیا۔ انہوں نے عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي لَمَّا کہا: تم نے کیا کیا؟ تو گھر والوں نے انہیں بتایا۔ جِئْتَ فَخَرَجْتُ فَقُلْتُ سَلْ أَضْيَافَكَ حضرت ابو بکر نے پکارا: عبد الرحمن؟ میں خاموش فَقَالُوا صَدَقَ أَتَانَا بِهِ قَالَ فَإِنَّمَا ہو رہا ۔ پھر انہوں نے کہا: عبد الرحمن! پھر میں