صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 565 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 565

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۶۵ ۷۸ - كتاب الأدب السُّوَائِيُّ يُقَالُ وَهْبُ الْخَيْرِ۔کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے سو ہر حقدار کو اس کا حق دو، پھر حضرت ابو درداء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (سن کر) فرمایا: سلمان نے سچ کہا۔حضرت ابو جحیفہ وہب طرفه: ١٩٦٨ - سوائی ہیں جنہیں وہب الخیر بھی کہتے تھے۔ح : صُنْعُ الطَّعَامِ وَالتَّكَلِّفُ لِلضيف : مہان کے لئے کھاناتیار کر اور تکلیف برداشت کرنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”میر اہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس کے لیے ہمیشہ تاکید کرتارہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے۔مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذراسی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔اس سے پیشتر میں نے یہ انتظام کیا ہو ا تھا کہ خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا مگر جب سے بیماری نے ترقی کی اور پر ہیزی کھانا کھانا پڑا تو پھر وہ التزام نہ رہا۔ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہو گئی کہ جگہ کافی نہ ہوتی تھی اس لیے بھیجوری علیحدگی ہوئی۔ہماری طرف سے ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنی تکلیف کو پیش کر دیا کرے۔بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں، ان کے واسطے الگ کھانے کا انتظام ہو سکتا ہے۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحه ۲۹۲) ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میاں نجم الدین صاحب مہتم لنگر خانہ کو بلوا کر فرمایا: ”دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں۔اس لیے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔سردی کا موسم ہے، چائے پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔تم پر میر احسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو۔ان سب کی خوب خدمت کرو۔اگر کسی کو گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کر دو۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۴۹۲)