صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 567 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 567

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۶۷ ۷۸ - كتاب الأدب انْتَظَرْتُمُونِي وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ خاموش رہا۔ پھر کہنے لگے : ارے بیوقوف! میں فَقَالَ الْآخَرُونَ وَاللهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تمہیں قسم دیتا ہوں اگر تم میری آواز سن رہے ہو تَطْعَمَهُ قَالَ لَمْ أَرَ فِي الشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ تو ضرور ہی آجاؤ۔ میں سن کر باہر آیا۔ میں نے کہا: وَيْلَكُمْ مَا أَنْتُمْ؟ لِمَ لَا تَقْبَلُونَ عَنَّا اپنے مہمانوں سے پوچھئے۔ وہ کہنے لگے: حضرت قِرَاكُمْ هَاتِ طَعَامَكَ فَجَاءَهُ فَوَضَعَ عبد الرحمن نے سچ کہا ہے۔ وہ ہمارے پاس کھانا يَدَهُ فَقَالَ بِاسْمِ اللهِ الْأُولَى لِلشَّيْطَانِ لائے تھے۔ حضرت ابو بکر نے کہا: اچھا تم نے میرا فَأَكَلَ وَأَكَلُوا ۔ انتظار کیا، اللہ کی قسم میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا اور دوسروں نے کہا: اللہ کی قسم ہم بھی کھانا نہیں أطرافه: ٦٠٢، ٣٥٨١، ٦١٤١۔ کھائیں گے جب تک کہ آپ نہ کھائیں۔ حضرت ابو بکر کہنے لگے: میں نے کبھی ایسی بری رات نہیں دیکھی۔ تم پر افسوس! تم کیسے ہو ؟ تم ہم سے جو تمہاری مہمانی ہے قبول کیوں نہیں کرتے؟ اپنا کھانا لاؤ۔ چنانچہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اپنا ہاتھ رکھا اور کہا: بسم اللہ ، پہلی حالت شیطان کی تھی، اور حضرت ابو بکر نے کھایا اور مہمانوں نے بھی کھایا۔ تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْغَضَبِ وَالْجَزَعِ عِندَ الضَّيْفِ: مہمان کے سامنے ناراضگی اور گھر اہٹ کا اظہار کرنا جو نا پسندیدہ ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اگر کوئی مہمان آوے اور سب و شتم تک بھی نوبت پہنچ جاوے تو اس کو گوارا کرنا چاہیے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زیارت کرنے والے کا تیرے پر حق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مہمان کو ذرا سا بھی رنج ہو تو وہ معصیت میں داخل 66 ہے۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۷۹، ۸۰)