صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 470
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۷۰ ۷۸ - كتاب الأدب صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت زور دیا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی رکھا ہے کہ ایسے عیب کہ جن کے بیان کرنے سے کوئی فائدہ نہ ہو یا جن کی وجہ سے کوئی نقصان نہ ہوتا ہو بلکہ ذاتی عیوب ہوں اُن کو بیان نہیں کرنا چاہئیے۔ اُن کے بیان کرنے سے خاص طور پر روکا گیا ہے۔ چنانچہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لوگوں کے عیب میرے سامنے اس رنگ میں بیان نہ کرو کہ میرے دل میں اُن سے نفرت پیدا ہو۔ یہی اچھا ہے کہ میں جب گھر سے نکلوں تو سب کی محبت میرے دل میں ہو۔ تو حاکم یا قاضی یا خلیفہ یا امام کے پاس کسی کے ذاتی عیب اس لئے بیان کرنے کہ اس کے دل میں نفرت پیدا ہو منع ہیں۔ صرف ایسے عیب بیان کرنے جائز ہوں گے کہ جن کی اصلاح کی طرف توجہ دی جاسکے یا ایسے کہ اگر نہ بیان کئے جائیں تو دوسروں کو نقصان پہنچے لیکن اگر یہ نہ ہو تو امام یا خلیفہ کے پاس ان کا بیان کرنانا جائز ہو گا۔“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۰ء، جلد ۶ صفحه ۵۳۰ تا ۵۳۳) بَاب ٥٤ : مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّمَادُحِ تعریف میں مبالغہ کرنا جو مکروہ ہے ٦٠٦٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاح ٦٠٦٠ : محمد بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا اسماعيل بن زکریا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ بن عبد الله بن ابی بردہ سے ، بُرید نے ابو بردہ سے ، أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ سَمِعَ ابو بردہ نے حضرت ابوموسی سے روایت کی۔ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو يُغْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ سنا کہ وہ ایک دوسرے شخص کی تعریف کر رہا ہے فَقَالَ أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ۔ اور تعریف میں اس کے متعلق مبالغہ کر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا: تم نے ہلاک کر دیا یا (فرمایا:) آدمی طرفه: ٢٦٦٣ - کی پیٹھ تم نے توڑ ڈالی۔ ٦٠٦١ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۶۰۶۱: آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ