صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 454
صحیح البخاری جلد ۱۴ لد ولد ۷۸ - كتاب الأدب کو بطور سفارش کے کھڑا کر دیا۔ عالم روحانی کے یہ راز ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا اس لئے آپ نے لوگوں کو مختصر جواب دیا اور ایک دوسرے موقع پر آپ نے اس قانون ربانی کی تشریح بھی کر دی۔ فرمایا: كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ یعنی عالم آخرت میں اسی طرح نشو و نما پائے گا جس طرح سیلاب کے کچرے: کچرے میں دانہ نشوو نما پاتا ہے۔ وہاں بھی روح کی کثافتیں اسی طرح لطافتوں میں تبدیل ہوں گی جیسے یہاں ترابی مواد لطیف زندگی میں تبدیل ہوتے ہیں۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب الوضوء، باب من الكبائر ان لا يستتر من بوله، جزء اول صفحه ۳۰۱) بَاب ٤٧ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: انصار کے بہتر گھرانے ٦٠٥٣ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا ۶۰۵۳: قبیصہ (بن عقبہ ) نے ہم سے بیان کیا کہ سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سفیان ثوری ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيّ قَالَ قَالَ ہے ، ابوالزناد نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ ابو أسيد ساعدی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کے بہتر دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ۔ أطرافه: ۳۷۸۹، ۳۷۹۰، ۳۸۰۷- گھرانے بنو نجار ہیں۔ تشريح : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ نبی صلی الہ علیہ سلم کا فرمانا: انصار کے بہتر گھرانے۔ امام ابن حجر نے اس باب کے یہاں آنے پر اشکال کا اظہار کیا ہے کہ بظاہر تو اس باب کا تعلق غیبت کے مضمون سے دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے نزدیک غیبت کے ضمن میں اس کے آنے کی وجہ آنحضور صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ غیبت کی تعریف " ذِكُرُكَ أَخَاكَ : ريف " ذِكرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ ہے۔ یعنی تیرا اپنے رة بھائی کا ایسا ذ کر کرنا جسے وہ ناپسند کرے۔ مراد یہ ہے کہ جن پر فضیلت دی جارہی ہے ممکن ہے کہ وہ ناپسند کریں اور برا منائیں۔ حدیث زیر باب سے ظاہر ہے کہ فضیلت کا اس طرح اظہار جائز ہے اور یہ بات غیبت میں داخل نہیں۔ ابن التین نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۰ ۱ صفحہ ۵۷۸) (مسلم، كتاب البر والصلة، باب تحريم الغيبة)