صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 449
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۴۴۹ ۷۸ - كتاب الأدب بَاب ٤٦ : الْغِيبَةُ غیبت کرنا وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: وَلَا يَغْتَب اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: یعنی تم میں سے کوئی کسی کی بَعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ کہ اپنے بھائی کا گوشت کھائے جبکہ وہ مردہ ہو ؟ تم وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ ) اس سے کراہت ہی کرتے ہو اور اللہ کی ناراضگی (الحجرات: ۱۳) سے بچو۔ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور سچی کوشش کا بدلہ رحمت سے دینے والا ہے۔ ٦٠٥٢ : حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ۲۰۵۲ بیچی (بن موسی بلخی) نے ہم سے بیان کیا عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے مجاہد سے سنا۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللهِ وہ طاؤس سے بیان کرتے ہیں۔ طاؤس نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذِّبَانِ وَمَا يُعَذِّبَانِ فِي نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے كَبِيرٍ أَمَّا هَذَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ پاس سے گزرے اور فرمایا: انہیں تو سزا دی جارہی بَوْلِهِ وَأَمَّا هَذَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ہے اور کسی بڑی بات پہ انہیں سزا نہیں دی جارہی۔ ثُمَّ دَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ فَشَقَّهُ بِالْبَيْنِ یہ جو ہے تو پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتا تھا اور یہ جو فَغَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَعَلَى هَذَا ہے تو یہ چغلی کرتا پھرتا تھا۔ پھر آپ نے کھجور کی وَاحِدًا ثُمَّ قَالَ لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا ایک بڑی ٹہنی منگوائی اور اس کو درمیان سے چیر مَا لَمْ يَيْبَسَا ۔ کر دو ٹکڑے کیا۔ ایک کو اس قبر پر گاڑ دیا اور ایک کو اس قبر پر ۔ پھر فرمایا: شاید جب تک یہ خشک نہ أطرافه: ۲۱٦، ۲۱۸ ، ١٣٦١، 1378، 6055- ہو ان سے سزا ہلکی کی جائے۔