صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 448 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 448

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۴۸ ۷۸ - كتاب الأدب تَقْصُرْ قَالُوا بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ یا نماز کم ہو گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا: میں بھولا نہیں قَالَ صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَامَ فَصَلَّى اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔انہوں نے کہا: نہیں، رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ يارسول اللہ ! بلکہ آپ بھول گئے ہیں۔آپ نے مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فرمایا: ذوالیدین نے سچ کہا ہے۔پھر آپ کھڑے وَكَبَّرَ ثُمَّ وَضَعَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ ہو گئے اور آپ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا۔پھر اس کے بعد اللہ اکبر کہا اور آپ نے أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ۔سجدہ کیا ویسے ہی جیسے آپ سجدہ کیا کرتے تھے یا اس سے لمبا۔پھر آپ نے اپنا سر اُٹھایا اور اللہ اکبر کہا۔پھر آپ نے ویسے ہی سجدہ کیا جیسا کہ آپ کیا کرتے تھے یا اس سے لمبا۔اس کے بعد آپ نے سر اُٹھایا اور اللہ اکبر کہا۔أطرافه: ٤٨٢، ۷۱٤، ۷۱۵ ۱۲۲۷، ۱۲۲۸، ۱۲۲۹، ۷۲۵۰- يح : مَا يَجُوزُ مِن ذِكْرِ النَّاسِ لَحوَ قَوْلِهِمُ الطَّوِيلُ وَالْقَصِيرُ: جو لوگوں کے متعلق ذکر کرنا جائز ہے جیسے لوگوں کا یہ کہنا کہ وہ لمبا ہے یا پست قد۔باب ۴۳ میں سورۃ الحجرات کی آیت نمبر ۱۲ کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تحقیر اور تمسخر کا رویہ مت رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کو بُرے ناموں سے پکارو۔کیونکہ ایمان کے بعد ایسا کرنا یقینا فسق اور نافرمانی میں داخل ہے۔باب ہذا میں یہ بتایا گیا ہے کہ بسا اوقات محبت اور پیار سے بھی کوئی نام رکھا جاتا ہے جس سے غرض چڑانا، تکلیف دینا یا تحقیر کرنا نہیں ہوتی بلکہ پیار اور اپنائیت کا اظہار مقصود ہوتا ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر حضرت علی کو ابو تراب کہا۔حضرت علی اس نام کو پسند فرماتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس محبت اور اپنائیت کا حظ اُٹھاتے۔زیر باب حدیث میں اس کی ایک مثال بیان کی گئی ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ذوالیدین یعنی دو لمبے بازوؤں والا کہا۔اس صورت میں یہ نام وَلَا تَنَابَزُوا بِالا نقاب کی ذیل میں نہیں آتے۔امام بخاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ سے اس کے جواز کا ثبوت دیا ہے۔