صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 447
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۴۷ ۷۸ - كتاب الأدب بھی اللہ تعالیٰ کی ہمیں یہی ہدایت ہے کہ ہم جاہلوں کی توہین اور تحقیر اور با اور تحقیر اور بد زبانیوں اور گالیوں سے اعراض کریں اور ان تدبیروں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں کہ کیونکر ہم بھی ان کو سزا دلا دیں۔ بدی کے مقابل پر بدی کا ارادہ کرنا ایک معمولی بات ہے کمال میں داخل نہیں۔ کمال انسانیت یہ ہے کہ ہم حتی الوسع گالیوں کے مقابل پر اعراض اور درگذر کی خو اختیار کریں۔ “ (البلاغ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۹۱، ۳۹۲) بَاب ٤٥ : مَا يَجُوزُ مِنْ ذِكْرِ النَّاسِ نَحْوَ قَوْلِهِمُ الطَّوِيلُ وَالْقَصِيرُ جو لوگوں کے متعلق ذکر کرنا جائز ہے جیسے لوگوں کا یہ کہنا کہ وہ لمبا ہے یا پست قد وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ذوالیدین کیا مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ، وَمَا لَا يُرَادُ بِهِ کہتا ہے؟ نیز وہ باتیں جن سے آدمی کے عیب بیان شَيْنُ الرَّجُلِ۔ کرنا مقصود نہ ہو۔ ٦٠٥١: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۶۰۵۱ : حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ یزید حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ سیرین) سے ، محمد نے حضرت ابوہریرہ سے روایت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں۔ ڑھائیں۔ پھر آپ نے سلام پھیر دیا۔ پھر آپ اُٹھ کر ایک لکڑی کے پاس گئے جو الْمَسْجِدِ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا وَفِي مسجد کے سامنے تھی اور آپ نے اس پر اپنا ہاتھ الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابًا رکھا۔ اس وقت لوگوں میں حضرت ابو بکر اور أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ حضرت عمرؓ تھے تو وہ آپ کو کہنے سے جھینے۔ اور فَقَالُوا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ لوگوں میں سے جلد باز باہر چلے گئے اور کہنے لگے: رَجُلٌ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا نماز کم ہو گئی ہے ؟ اور لوگوں میں ایک شخص تھا، يَدْعُوهُ ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللهِ في صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ذوالیدین کہہ کر پکارتے أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتْ فَقَالَ لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تھے۔ وہ کہنے لگا: یا نبی اللہ ! کیا آپ بھول گئے ہیں