صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 446
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۴۶ ۷۸ - كتاب الأدب نَعَمْ هُمْ إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے اُس کی ماں کو بُرا کہا ہے ؟ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ جَعَلَ اللهُ أَخَاهُ تَحْتَ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: تم تو ایسے آدمی يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ ہو کہ تم میں ابھی تک جاہلیت ہے۔ میں نے کہا: مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا يُكَلِّفُهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا بہت بڑھاپے کی وجہ سے میں اب تک ایسا ہی ہوں يَغْلِبُهُ فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ آپؐ نے فرمایا: ہاں وہ تمہارے بھائی ہیں۔ ان کو عَلَيْهِ۔ اللہ نے تمہارے ماتحت کیا ہے۔ اس لئے جس کے بھائی کو اللہ نے اس کے ماتحت کیا ہو تو چاہیے کہ وہ اس کو اس کھانے سے کھلائے جو وہ کھاتا ہے اور اس کو اس کپڑے سے پہنائے جو وہ پہنتا ہے اور اس کو اس کام کے کرنے کی تکلیف نہ دے جو اُس کو بے بس کر دے۔ اگر اس نے اس کو ایسے کام کی تکلیف دی ہے جو اس کو بے بس کر دے تو اطرافه ٣٠ ، ٢٥٤٥ - چاہیے کہ وہ اس کام میں اس کی مدد کرے۔ تشريح : مَا يُنْهَى عَنِ السَّبَابِ واللعن: گالی دینے اور لعنت کرنے سے جورو کا جائے۔ عنوان باب کے الفاظ سے امام بخاری نے ان مواقع کی نشان دہی کی ہے جن میں انسان جذبات کی رو میں بہہ کر حد اعتدال سے باہر نکل جاتا ہے اور بدحواسی میں اس کی زبان بھی بے قابو ہو جاتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے: بعض اوقات ایک کلمہ ا اوقات ایک کلمہ انسان کو داخل جہنم کر دیتا ہے۔ کے ایک موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَمْلِكُ عَلَيْكَ لِسَانَكَ ے اپنی زبان کو قابو میں رکھو۔ کہا جاتا ہے زبان انسان کے جسم کی ڈیوڑھی ہے۔ اسی سے کسی کے پاک یا نا پاک ہونے کا پتہ لگتا ہے۔ غرض قرآن کریم اور احادیث میں زبان کے بر محل استعمال کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ لگتا تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام آیت کریمہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (آل عمران : ۲۰۱) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”اے ایمان والو ! دشمنوں کی ایذا پر صبر کرو اور با ایں ہمہ مقابلہ میں مضبوط رہو اور کام میں لگے رہو اور خدا سے ڈرتے رہو تا تم نجات پا جاؤ۔ سو اس آیت کریمہ میں ا۔ (صحيح البخاری، کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان، روایت نمبر ۶۴۷۷) صيح البخاري، كتاب في الاسْتِقْرَاضِ، بَابُ الشَّفَاعَةِ فِي وَضْعِ الدَّيْنِ، روایت نمبر ۲۴۰۶)