صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 436 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 436

صحیح البخاری جلد ۱۴ اسم سلام ۷۸ - كتاب الأدب بَاب ٤٢ : الْحُبُّ فِي اللَّهِ اللہ کے لئے محبت کرنا ٦٠٤١ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۶۰۴۱ : آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے ، قتادہ نے حضرت اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجِدُ أَحَدٌ حَلَاوَةَ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کوئی بھی ایمان کی حلاوت نہیں پاتا جب تک کہ وہ کسی الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبُّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ آدمی سے محبت صرف اللہ ہی کے لئے رکھے۔ اور إِلَّا لِلَّهِ وَحَتَّى أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ جب تک کہ آگ میں ڈالا جانا اس کو کفر کی طرف أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ لوٹنے سے زیادہ پیارا ہو ، بعد اس کے کہ اللہ نے بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللهُ وَحَتَّى يَكُونَ اللهُ اس کو کفر سے نجات دی۔ اور جب تک کہ اللہ اور وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا۔ اُس کا رسول اس کو اُن تمام چیزوں سے پیارے نہ أطرافه: ١٦، ٢١، ٦٩٤١- ہوں جو اس کے ماسوا ہوں۔ تشریح : الحب في الله: اللہ کے لئے محبت کرنا۔ الحب سے مراد محبت، دوستی، تعلق، میلان ہے۔ ( قاموس الوحيد ) کا خلاصہ اور م ایک اور لغت میں محبت کے معنی الفت ، پیار ، چاہ اور دوستی بیان کئے گئے ہیں۔ (فیروز اللغات - مح) مذہب ا اور مرکزی نکتہ یہ ہے کہ خدا کا اپنے بندوں سے جو طبعی اور فطری تعلق ہے اس کو مٹنے نہ دیا جائے بلکہ اس تعلق کو ہمیشہ تروتازہ اور مضبوط کیا جائے اور اس تعلق محبت کے استحکام کی ایک صورت یہ ہے کہ خالق کی مخلوق میں سے جس سے محبت کی جائے وہ خالق کی وجہ سے اور جس سے نفرت کی جائے وہ بھی خالق کی وجہ سے۔ اس کی بڑی مثال انبیاء اور ان کے دشمنوں کی دی جاسکتی ہے کہ انبیاء سے محبت اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ زمین پر خدا کے نمائندے اور محبوب ہیں۔ اور ان کے دشمنوں سے نفرت اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ خدا کے پیاروں کے دشمن ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ انسان اپنے جذبات، خواہشات اور مرضیات کو خدا کی مرضی اور منشاء کے تابع کر دے۔ اس کا دوسرا نام خلق بھی ہے کہ نفرت اپنے محل پر اور رت اپنے محل پر اور محبت اپنے محل پر اور غضب اپنے محل پر اور سخ پر اور سختی اپنے محل پر اور نرمی اپنے محل پر۔ یعنی الحُب في الله وَالْبُغْضُ في الله - - کہ ے کہ محبت بھی اللہ کی خاطر اور نفرت بھی اللہ کی خاطر ہو۔ (سنن ابی داؤد، كِتَاب السُّنَّةِ، بَابُ مُجَانَبَةِ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ وَبُغْضِهِمْ ، جزء ۴ صفحه (۱۹۴)