صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 435
صحیح البخاری جلد ۱۴ أَهْلِ الْأَرْضِ۔اطرافه: ٣٢٠٩، ٧٤٨٥۔۴۳۵ ۷۸ - كتاب الأدب اس سے محبت رکھتے ہیں۔پھر زمین کے باشندوں میں اس کی قبولیت ڈال دی جاتی ہے۔ریح : الْمِقَةُ مِنَ الله تعالى: دلوں کی محبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔یہ الفاظ ایک حدیث نبوی کے ہیں جسے امام احمد بن حنبل اور طبرانی نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ الْبَقَةُ مِنَ الله والقيتُ مِنَ السَّمَاءِ یعنی محبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور مقبولیت آسمان سے اترتی ہے۔(فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۵۶۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بعض لوگ سوال کیا کرتے ہیں کہ سجدہ کا حکم تو ملائکہ کو دیا گیا تھا۔اگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا تو اس کا قصور کیا ہوا؟ اس سوال کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بالکل حل کر دیتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ جبریل کو کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تو بھی اُس سے محبت کر ، چنانچہ وہ اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔پھر جبریل آسمان والوں میں منادی کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اُس سے محبت کرو۔اس پر تمام آسمان والے اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ يُوْضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ اُس بندے کے لئے زمین میں بھی قبولیت پھیلا دیجاتی ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبو بین سے محبت کرنے کا حکم فرشتوں کو دیتا ہے اور پھر وہ اس حکم کو دنیا میں جاری کر دیتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم فرشتوں سے مخصوص نہیں ہو تا بلکہ اہل زمین بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔“ ( تفسیر کبیر، سورة طه، زیر آیت وَاذْ قُلْنَا لِلْمَلَكَةِ اسْجُدُوا، جلد ۵ صفحه ۴۷۲) (مسند أحمد بن حنبل، مسند الأنصار، حديث أبي أمامة الباهلى رضی الله عنه، جزء ۵ صفحه ۲۶۳) (المعجم الكبير للطبراني، أبو ظبية، عن أبي أُمَامَةَ، جزء ۸ صفحه ۱۲۰، روایت نمبر ۷۵۵۱) (صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذكر الملائكة)