صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 434
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۳۴ ۷۸ - كتاب الأدب بہتر ہے۔“ اور فرمایا کہ ”میں تم سے بڑھ کر اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک “ کرنے والا ہوں۔“ ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیئے کہ کیا ہم اس خوبصورت نمونہ پر ، اِس اُسوہ پر عمل کرتے ہیں؟ بعض ایسی شکایات بھی آتی ہیں کہ ایک شخص گھر میں کرسی پہ بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہے، پیاس لگی تو بیوی کو آواز دی کہ فریج میں سے پانی یا جوس نکال کر مجھے پلا دو حالانکہ قریب ہی فریج پڑا ہوا ہے خود نکال کر پی سکتے ہیں۔ اور اگر بیوی بیچاری اپنے کام کی وجہ سے یا مصروفیت کی وجہ سے یا کسی وجہ سے لیٹ ہو گئی تو پھر اس پر گر جنا، بر سنا شروع کر دیا۔ تو ایک طرف تو یہ دعویٰ ہے کہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور دوسری طرف عمل کیا ہے؟ ادنیٰ سے اخلاق کا بھی مظاہرہ نہیں کرتے۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۲، جولائی ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحہ ۴۴۸،۴۴۷) باب ٤١ : الْمِقَةُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى دلوں کی محبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ٦٠٤٠ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۶۰۴۰: عمر و بن علی نے ہم سے بیان کیا۔ ابو عاصم حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ کی ۔ انہوں نے کہا: مجھے موسیٰ بن عقبہ نے بتایا۔ نَّافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابو ہریرہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ سے ، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جب اللہ کسی بندے عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ سے محبت رکھتا ہے تو وہ جبریل کو پکارتا ہے کہ اللہ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ فَيُنَادِي فلاں سے محبت رکھتا ہے تم بھی اُس سے محبت رکھو۔ جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ جبریل اس سے محبت رکھتا ہے۔ پھر جبریل آسمان يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ والوں میں پکارتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت رکھتا السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي ہے تم بھی اس سے محبت رکھو تو آسمان والے بھی (ترمذی، کتاب المناقب، باب فضل ازواج النبی ﷺ)