صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 418
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۱۸ ۷۸ - كتاب الأدب ٦٠٢٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۰۲۵ : عبد اللہ بن عبد الوہاب نے ہم سے بیان عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ ثابت سے، ثابت نے حضرت انس بن مالک سے أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَامُوا إِلَيْهِ روایت کی کہ ایک گنوار نے مسجد میں پیشاب کر فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دیا۔ لوگ اُٹھ کر اُس کی طرف لپکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پیشاب مت وَسَلَّمَ لَا تُزْرِمُوهُ ثُمَّ دَعَا بِدَلْو من روکو۔ پھر آپ نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور مَّاءٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ۔ أطرافه: ۲۱۹، ۲۲۱، ۲۲۱ وہاں ڈال دیا گیا۔ تشریح : الرفق في الأمر كله: ہر معاملے میں نرمی اختیار کرنا۔ باب نمبر ۳۳ سے ۳۵ میں ان اخلاقی قدروں کا ذکر ہے جن کو لوگ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں حالانکہ یہی وہ سرمایہ حیات ہے جس پر انسانی زندگی کی تعمیر ہوتی ہے اور معاشرہ تلخیوں کی بجائے محبتوں کی فضا میں پروان چڑھتا ہے۔ ہر بھلی بات اور نیک کام کو صدقہ قرار دے کر جہاں صدقہ کی تعریف میں وسعت پیدا کی ہے وہاں نیکیوں اور اچھی باتوں کو معاشرہ میں رائج کرنے کی تعلیم دی جس سے معاشرہ خوشگوار اور محبت و اخوت کے ماحول میں ترقی کرتا ہے۔ ان احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق عظیم کی ایک چمک ان یہود کے مقابل دکھائی گئی ہے جو اس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار تھے کہ ملنے آتے اور گھر آکر بھی ہلاکت کی بد دعا دیتے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف علیکم کہہ کر اس حقیقت کا بیان فرماتے کہ یہ ہلاکت تو تمہارا مقدر ہے اور اپنی زوجہ کو نرمی کا حکم دے کر یہود کی اس بد خلقی پر بھی تحمل اور برداشت کا حکم دیتے۔ جس کا نتیجہ قرآن کریم نے ولی حَمِيم بتایا ہے کہ سخت کلامی اور بد خلقی پر نرمی دکھانا جانی دشمن کو یار جانی بنا دیتا ہے اور یہ بھی آپ کی سیرت کا وہ سنہرا باب ہے جو آپؐ کی ساری زندگی پر محیط ہے۔ اللهم صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّد بَاب ٣٦ : تَعَاوُنُ الْمُؤْمِنِينَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا مؤمنوں کا ایک دوسرے سے تعاون کرنا ٦٠٢٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ٦٠٢٦ : محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بُرَيْدِ بْنِ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو بردہ برید ( بن أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ عبد الله بن ابی بردہ سے روایت کی۔ انہوں نے