صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 321
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۲۱ ۷۷- كتاب اللباس عُمَرَ بْنَ نَافِعٍ أَخْبَرَهُ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی نے کہا مجھے عبید اللہ بن حفص نے بتایا کہ عمر بن عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ نافع نے انہیں بتایا۔ عمر نے نافع سے جو حضرت اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ عبد الله بن عمر) کے غلام تھے روایت کی کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، الْفَزَعِ۔ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ قُلْتُ وَمَا کہتے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے الْفَزَعُ فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللهِ قَالَ إِذَا سنا۔ آپ قزع سے منع فرماتے تھے۔ عبید اللہ حَلَقَ الصَّبِيَّ وَتَرَكَ هَا هُنَا شَعَرَةً وَمَا کہتے تھے۔ میں نے نے پوچھا: قزع کیا ہوتا ہے؟ تو هُنَا وَهَا هُنَا فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللهِ إِلَى عبید اللہ نے ہمیں اشارہ کر کے بتایا، کہا: جب بچے نَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ رَأْسِهِ۔ قِيلَ لِعُبَيْدِ اللهِ کا سر منڈوایا جائے اور کچھ ادھر بال چھوڑے فَالْجَارِيَةُ وَالْغُلَامُ قَالَ لَا أَدْرِي جائیں کچھ ادھر اور کچھ اُدھر ۔ عبید اللہ نے ہمیں اپنی پیشانی کی طرف اور اپنے سر کے دونوں هَكَذَا قَالَ الصَّبِيُّ۔ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ طرف اشارہ کر کے بتایا۔ عبید اللہ سے پوچھا گیا: وَعَاوَدْتُهُ فَقَالَ أَمَّا الْقُصَّةُ وَالْقَفَا لڑکی اور لڑکے کے متعلق؟ انہوں نے کہا: میں لِلْغُلَامِ فَلَا بَأْسَ بِهِمَا وَلَكِنَّ الْقَزَعَ نہیں جانتا۔ نافع نے اسی طرح بچے کا نام لیا۔ أَنْ يُتْرَكَ بِنَاصِيَتِهِ شَعَرٌ وَلَيْسَ فِي عبید اللہ کہتے تھے : عمر بن نافع سے میں نے دوبارہ رَأْسِهِ غَيْرُهُ، وَكَذَلِكَ شَقُّ رَأْسِهِ هَذَا پوچھا تو انہوں نے کہا: لڑکے کی کنپٹیاں اور گدی وَهَذَا۔ طرفه : ٥٩٢١۔ کے بال رکھنے میں تو کوئی حرج نہیں مگر قزع یہ ہے کہ اس کی پیشانی پر بال چھوڑے جائیں اور باقی سر پر بال نہ ہوں اور اسی طرح سر کی اِس جانب اور اس جانب۔ ٥٩٢١: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۵۹۲۱: مسلم بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ عبد اللہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ عَبْدِ اللهِ بن مثنى بن عبد اللہ بن انس بن مالک نے ہم سے بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بیان کیا کہ عبداللہ بن دینار نے ہمیں بتایا۔ عبد اللہ