صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 322 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 322

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۲۲ ۷۷- كتاب اللباس دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْقَزَعِ۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا۔ طرفه : ٥٩٢٠۔ تشریح : القرع: درمیان سے سر کے بالوں کو منڈوا کر ادھر ادھر سے بالوں کو چھوڑنا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تشبيه با الکفار تو کسی رنگ میں بھی جائز نہیں۔ اب ہند و ماتھے پر ایک ٹیکا سالگاتے ہیں۔ کوئی وہ بھی لگالے یا سر پر بال تو ہر ایک کے ہوتے ہیں۔ مگر چند بال بودی کی شکل میں ہندو رکھتے ہیں۔ اگر کوئی ویسے ہی رکھ لیوے تو یہ ہرگز جائز نہیں۔ مسلمانوں کو اپنی ہر ایک چال میں وضع قطع میں غیرت مندانہ چال رکھنی چاہئے۔ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سراویل بھی خرید نا آپ کا آپ کا ثابت ہے۔ جسے ہم پاجامہ یا تنبی کہتے ہیں۔ ان میں سے جو چاہے پہنے۔ علاوہ ازیں ٹوپی کر تہ چادر اور پگڑی بھی آپ کی عادت مبارک تھی۔ جو چاہے پہنے کوئی حرج نہیں۔ ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت در پیش آئے تو اسے چاہئے کہ ان میں سے ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو۔ جب ایک شخص اقرار کرتا ہے کہ میں ایمان لایا تو پھر اس کے بعد وہ ڈرتا کس چیز سے اور وہ کون سی چیز ہے جس کی خواہش اب اس کے دل میں باقی رہ گئی ہے ۔ کیا کفار کی رسوم اور عادت کی؟ اب اسے ڈر چاہئے تو خدا کا، اتباع چاہئے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ کسی ادنیٰ سے گناہ کو خفیف نہ جاننا چاہئے بلکہ صغیرہ ہی سے کبیرہ بن جاتے ہیں اور صغیرہ ہی کا اصرار کبیرہ ہے۔ “ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۲۴۷،۲۴۶) باب ۷۳ : تَطْبِيبُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا بِيَدَيْهَا عورت کا اپنے خاوند کو اپنے ہاتھوں سے خوشبو لگانا ٥٩٢٢ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۵۹۲۲ : احمد بن محمد (مروزی) نے ہم سے بیان