صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 318 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 318

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۱۸ ۷۷- كتاب اللباس بْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ہے ، نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے ، حضرت زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَأْنُ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی وہ کہتی تھیں۔ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ میں نے کہا: یا رسول اللہ لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ إِنِّي لَبَدْتُ رَأْسِي انہوں نے عمرہ کر کے احرام کھول ڈالا ہے اور وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ آپ نے اپنا عمرہ کر کے احرام نہیں کھولا؟ آپ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو جما لیا تھا أطرافه : ١٥٦٦، ١٦٩٧، ١٧٢٥، ٤٣٩٨۔ اور اپنی قربانی کے جانوروں کے گلے میں ہار ڈالے تھے تو میں اس وقت تک احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ نحر نہ کرلوں۔ تشریح التلبيد: بالوں کا جمانا۔ تلبید سے مراد ہے محرم اپنے سر میں تھوڑا سا گوند لگالے تا کہ اس کے بال چپک جائیں۔ جس کے دو فائدے ہوں گے۔ اول ان میں جوئیں نہیں پڑیں گی۔ دوم بال منتشر ہو کر انسان کا حلیہ نہیں بگاڑیں گے۔ آج کے زمانہ میں اس مقصد کیلئے کئی قسم کی جیل (jells) مارکیٹ میں ملتی ہیں۔ بَاب ۷۰ : الْفَرْقُ مانگ نکالنا ٥٩١٧ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۵۹۱۷: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ ابراہیم بن۔ بن اسعد نے ہمیں بتایا کہ ابن شہاب نے شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ہم سے بیان کیا، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ عبد الله سے، عبید اللہ نے حضرت ابن عباس كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيْمَا لَمْ صلی اللہ علیہ وسلم ان امور میں جن کے متعلق آپ