صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 307
صحیح البخاری جلد ۱۴ ٣٠٧ ۷۷- کتاب اللباس نہیں کیے جو بظاہر نظر آتے ہوں بلکہ صرف یہ فرمایا کہ دوسرے منڈاتے ہیں اس لئے تم رکھو۔ اس کے علاوہ آپ نے کوئی ایسی بات نہیں بیان فرمائی کہ ہم کہیں اس کو مد نظر رکھتے ہوئے اس حکم کی پابندی اس زمانہ میں ضروری نہیں۔ لیکن اس کا ظاہری فائدہ یہ ہے کہ اس سے ایک مسلمان دوسرے کو دیکھتے ہی پہچان لیتا ہے۔ گویا یہ بطور نشان اور علامت کے ہے۔ پھر اس کے علاوہ یہ فائدہ بھی ہے کہ ظاہری مشارکت قلبی اتحاد کی تقویت کا موجب ہوتی ہے۔“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۳ اکتوبر ۱۹۳۰، جلد ۱۲ صفحه (۴۹۱) باب ٦٦: مَا يُذْكَرُ فِي الشَّيْبِ بڑھاپے کے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے ٥٨٩٤ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ۵۸۹۴ معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَخَضَبَ ہے ، ایوب نے محمد بن سیرین سے روایت کی۔ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس سے پوچھا: يَبْلُغَ الشَّيْبَ إِلَّا قَلِيلًا۔ أطرافه : ٣٥٥٠، ٥٨٩٥۔ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب لگایا؟ انہوں نے کہا: آپ کے بال سفید نہیں ہوئے مگر تھوڑے سے۔ ٥٨٩٥ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۵۸۹۵ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انس سے نبی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْ مَا صلى اللہ علیہ وسلم کے خضاب لگوانے کے متعلق يَخْضِبُ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتِهِ پوچھا گیا ۔ انہوں نے کہا: یہاں تک نوبت نہیں