صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 306
صحیح البخاری جلد ۱۴ نیز فرمایا: ۷۷ - كتاب اللباس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ تو ثابت ہے کہ آپ نے داڑھی رکھی اور یہ بھی ثابت ہے کہ دوسروں سے کہا ر کھو۔مگر یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا اتنی لمبی داڑھی رکھو۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ بعض صحابہ کی داڑھی چھوٹی تھی۔چنانچہ حضرت علی کی چھوٹی داڑھی تھی اور مورخوں کی رائے ہے کہ عام طور پر صحابہ کی چھوٹی داڑھی تھی۔مظہر جان جاناں کے متعلق بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی داڑھی مختصر تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تو یاد نہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق معلوم ہے کہ آپ تزئین کراتے اور داڑھی کے بال بھی تر شواتے تھے۔میں بھی ہمیشہ اسی طرح کراتا ہوں۔اس وقت میری جتنی داڑھی ہے اگر میں اسے بڑھنے دوں تو اور زیادہ لمبی ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہفتہ وار داڑھی کے بال کتراتے جو کئی آدمیوں نے بطور تبرک رکھے ہوئے ہیں۔میرے پاس بھی ایک شیشی میں تھے جو کسی نے تبرک سمجھ کر اٹھالی۔۔۔بات یہ ہے داڑھی ہونی چاہئے آگے خواہ وہ چاول کے دانہ کے برابر ہو چاہے لمبی ہو یا پھر چاہے کوئی فیشن ہو۔جب صحابہ میں ایسے تھے جن کی چھوٹی داڑھی تھی تو کسی کی لمبی داڑھی دیکھ کر کہنا کہ اتنی ہونی چاہئے یہ شریعت سے معلوم نہیں ہوتا۔ہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی داڑھی تھی۔اگر کوئی لمبی داڑھی رکھتا ہے تو وہ اس بارے میں بھی آپ سے محبت کا ثبوت دیتا ہے۔پس چاہئے داڑھی ایک جو کے برابر ہو یا دو جو کے ، چاہے بالشت کے برابر ہو یہ اپنے اپنے ذوق پر منحصر ہے۔کسی کو اس میں دخل دینے کا اختیار نہیں۔اگر کوئی دخل دیتا ہے تو وہ شریعت میں دخل انداز ہوتا ہے۔“ فرمایا: فرمودات مصلح موعود درباره فقهی مسائل، صفحه ۳۵۸،۳۵۷) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ڈاڑھی منڈانے کا رواج تھا مگر آپ نے مسلمانوں کو ڈاڑھی رکھنے کا حکم دیا۔اس کے آپ نے کوئی ایسے فوائد بیان