صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 304
صحیح البخاری جلد ۱۴ ام به سلام ۷۷- کتاب اللباس ٥٨٩٣ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۵۸۹۳ : محمد بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ عَبْدَةُ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عبده بن سليمان) نے ہمیں خبر دی۔ عبید اللہ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بن عمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے ، نافع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وَسَلَّمَ انْهَكُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مونچھوں کو بالکل صاف کرو اور داڑھی کو اللحى۔ طرفه : ٥٨٩٢ بڑھنے دو۔ تشريح : إعفاء اللحي : داڑھی کو بڑھنے دینا۔ امام بخاری نے زیر باب لفظ لفظ عَفُوا کا معنی کفَرُوا کیا ہے یعنی وہ زیادہ ہو گئے۔ اسی طرح سورہ اعراف آیت ۹۶ حتی عفوا یعنی وہ خوب پھلے پھولے، عَفُوا کے ان معنوں سے داڑھی کے بڑھنے یا بڑھانے کا بیان کیا ہے۔ علامہ ابن دقیق العید نے کہا ہے: حقيقة الْإِعْفَاءِ التَّرْك الْإِعْفَاء کے حقیقی معنی چھوڑنا ہیں۔ وترك التعرض للحية يستلزم تكثيرھا ۔ اور داڑھی سے تعرض نہ کرنے (یعنی اس کی کانٹ چھانٹ نہ کرنے) کا لازمی نتیجہ اس کا بڑھنا ہے اور ابن السید نے سب سے منفرد بات کی ہے۔ فَقَالَ حَمَلَ بَعْضُهُمْ قَوْلَهُ أَعْفُوا اللَّهَى عَلَى الْأَخْذِ مِنْهَا بِإِصْلَاحِ مَا شَدُّ مِنْهَا طُولًا وَعَرْضًا وَاسْتَشْهَدَ بِقَوْلِ زُهَيْرٍ عَلَى آثَارِ مَنْ ذَهَبَ الْعَفَاءُ اور بعض علماء نے آپ کے قول وَ أَعْفُوا اللحی کے یہ معنی کیسے ہیں کہ اس میں سے طول و عرض میں بڑھے ہوئے بالوں کو تراشنا اور اس بات کی دلیل زہیر کے قول مٹ جانے والے آثار سے لی ہے۔ یعنی ذَهَبَ العفاء کا معنی ہے جو چیز تراش کر یا مٹا کر برابر کر دی جائے۔ ( فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۴۳۱) امام طبری نے کہا ہے اگر اس حدیث کے ظاہری الفاظ کی تتبع کی جائے تو داڑھی طول و عرض میں بہت بڑی ہو جائے گی اور انسان فتیح اور بد شکل ہو جائے گا۔ حضرت عمرؓ کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے داڑھی کو چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے اس کو پکڑ کر کھینچا اور اس آدمی سے کہا کہ ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں کاٹ دو۔ پھر فرمایا اپنے بالوں کی اصلاح کرو تم میں سے کوئی اپنے آپ کو اس طرح چھوڑ دیتا ہے کہ وہ درندوں میں کوئی درندہ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۴۶) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ڈاڑھی اسلام کے شعار میں سے ایک شعار ہے ۔ اب ایک غیر جو دیکھے گا کہ ایک شخص مسلمان کہلاتا ہے اور ڈاڑھی منڈواتا ہے تو وہ یہی کہے گا کہ یہ کہلا تا تو