صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 305
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۰۵ ۷۷- كتاب اللباس مسلمان ہے لیکن اسلامی شعار کی اس کے دل میں کچھ حرمت اور وقعت نہیں۔اس لئے وہ ڈاڑھی منڈوا کر اسلام کی ہتک کرتا ہے۔جب ڈاڑھی کا کوئی بوجھ نہیں نہ یہ کہ اس کی وجہ سے سخت گرمی محسوس ہوتی ہے اور ادھر ڈاڑھی رکھنا اسلام کے شعار میں سے ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کا مطالبہ کیا ہے اور یہ حکم ہے بھی ایسا جس کی تعمیل کو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔سر کے اگلے حصہ پر رکھے ہوئے بڑے بال تو ٹوپی یا پگڑی کے نیچے انسان چھپا بھی سکتا ہے لیکن ٹھوڑی تو چھپائی نہیں جاسکتی۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور اسلامی شعار کی حرمت کے لئے اگر ڈاڑھی رکھ لی جائے تو کونسی بڑی بات ہے۔“ نیز آپ فرماتے ہیں: خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۱۲ جون ۱۹۲۵، جلد ۹ صفحه ۱۷۱ ۱۷۲) ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ڈاڑھی رکھو۔پس ہمیں بھی اسی بات پر زور دینا چاہیئے کہ ڈاڑھی ہو اور ایسی ہو کہ دیکھنے والے کہیں کہ یہ ڈاڑھی ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ وہ کتنی ہو اس کے متعلق کوئی پابندی نہیں۔بعض لوگ تزئین کراتے ہیں بعض نہیں کراتے۔مگر صحیح طریق یہی ہے کہ ڈاڑھی کی تزئین کی جائے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق ثابت ہے کہ آپ تزئین کیا کرتے تھے۔اگر ایک شخص کی ڈاڑھی ایسی ہے جو زیادہ لمبی ہونے کی صورت میں بد زیب معلوم ہوتی ہے مثلاً صرف ٹھوڑی پر ہی بال ہیں تو ایسی صورت میں تر شوا کر چھوٹی کی جاسکتی ہے۔لیکن بعض لوگ جو زیر و مشین استعمال کرتے ہیں ان کی ڈاڑھی واقعہ میں ڈاڑھی کہلانے کی مستحق نہیں۔البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ڈاڑھی رکھنے کی کوشش کی ہے۔ایسے لوگ مخنث قسم کے ہوتے ہیں۔یعنی ڈاڑھی رکھنے والوں اور ڈاڑھی منڈانے والوں دونوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔باقی چھوٹی یا بڑی ڈاڑھی رکھنا انسان کی اپنی طبیعت اور حالات پر مبنی ہے۔وہ جیسی چاہے رکھ لے۔“ (ملفوظات حضرت خلیفة المسیح الثانی فرموده ۲۳ جون ۱۹۴۶، روزنامه الفضل ۱۴ اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحه ۴)