صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 271
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۷۱ ۷۷- کتاب اللباس تشریح : المِيرَةُ الحمراء : سرخ زین پوش۔ میری اس نرم ریشم کے کپڑے کو کہتے ہیں جس کو زین کے اوپر بچھایا جاتا ہے۔ زیر باب حدیث میں ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا۔ اس روایت میں تین کا ذکر ہے جبکہ دیگر روایات میں درج ذیل چار امور کا ذکر ملتا ہے: دعوت دینے والے کی دعوت والے کی دعوت قبول کرنا، سلام کو عام کرنا، مظلوم کی مدد کرنا، قسم کھانے والے کی قسم قسم پوری کرنا۔ روایت نمبر ۵۷۳۵) زیر باب حدیث میں دیباج کا ذکر ہے یہ فارسی لفظ ہے جسے معرب کیا گیا ہے اس سے مراد نرم ریشم ہے نیز استبرق کا ذکر ہے، استبرق موٹے ریشم کو کہتے ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۲۳) بَاب ٣٧ : النِّعَالُ السَّبْتِيَّةِ وَغَيْرِهَا صاف چمڑے وغیرہ کے جوتے ٥٨٥٠ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۵۸۵۰ : سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدٍ أَبِي حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید مَسْلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ النَّبِيُّ ابو مسلمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي حضرت انس سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ۔ طرفه: ٣٨٦ اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ ٥٨٥١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۵۸۵۱: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ انہوں نے مالک سے ، مالک نے سعید مقبری سے، عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ سعید نے عبید بن جریج سے روایت کی کہ انہوں عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ میں نے آپ کو ایسی چار باتیں کرتے دیکھا ہے کہ يَصْنَعُهَا قَالَ مَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ آپ کے ساتھیوں میں سے میں نے کسی کو بھی قَالَ رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا ان باتوں کو کرتے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا: الْيَمَانِيَيْنِ وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ ابن جریج وہ کیا ہیں؟ ابن جریج نے کہا: میں نے السَّبْعِيَّةَ وَرَأَيْتُكَ تَصْبُعُ بِالصُّفْرَةِ آپؐ کو دیکھا ہے کہ آپ رکنوں میں سے صرف