صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 269 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 269

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۶۹ ۷۷- کتاب اللباس رنگ اور متنوع ڈیزائنز کے کپڑے پہنتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ کسی بھی کپڑے کے پہننے میں اگر دکھاوا، ریا کاری، عجب، خود پسندی اور تکبر ملحوظ ہو تو چاہے کسی بھی رنگ اور کسی بھی نوع کا کپڑا ہو، شریعت اسلامیہ میں اسے جائز قرار نہیں دیا گیا بلکہ ایسے تکبر وریا سے پہننے والوں کا انجام احادیث میں بر ابتایا گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے زمانہ کے پیر زادوں اور فقیروں کے عجیب عجیب حالات لکھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ افسوس ہے بڑی ابتری پھیل گئی ہے کیونکہ یہ اور یہ فقیر میر جو اس زمانہ میں پائے جاتے ہیں وہ فقیر اللہ نہیں ہیں بلکہ فقیر الخلق ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہر حرکت و سکون ، لباس خورونوش اور کلام میں حکمت پر عمل کرتے ہیں مثلاً کپڑوں کے لیے وہ دیکھتے ہیں کہ اگر ہم عام غریبوں کی طرح گزی گاڑھے کے کپڑے پہنیں تو وہ عزت نہ ہو گی جو امراء سے توقع کی جاتی ہے وہ ہم کو کم حیثیت اور ادنی درجہ کے لوگ سمجھیں گے۔ لیکن اگر اعلیٰ درجہ کے کپڑے پہنتے ہیں تو پھر وہ ہم کو کامل دنیا دار سمجھ کر توجہ نہ کریں گے اور دنیا دار ہی قرار دیں گے اس لیے اس میں یہ حکمت نکال لی کہ کپڑے تو اعلیٰ درجہ کے اور قیمتی اور باریک لے لیے۔ لیکن ان کو رنگ دے لیا جو فقیری کے لباس کا امتیاز ہو گئے۔ “ ( ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۴۱۸) بَاب ٣٤ : الثَّوْبُ الْمُزَعْفَرُ زعفران سے رنگا کپڑا ٥٨٤٧ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۵۸۴۷: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد اللہ بن ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى دینار سے، عبد اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوعًا بِوَرْسٍ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ محرم ایسا کپڑا پہنے جو درس أَوْ بِزَعْفَرَانٍ۔ یا زعفران سے رنگا ہوا ہو۔ أطرافه: ١٣٤، ٣٦٦ ، ۱٥٤٢، ۱۸۳۸ ، ۱۸۴۲ ، ۵۷۹۴، ۵۸۰۳ ، ٥۸۰۰، ٥٨٠٦ ٥٨٥٢۔