صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 248
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۴۸ ۷۷- کتاب اللباس بَاب ۲۳ : الثَّيَابُ الْخُضْرِ سبز رنگ کے کپڑے ( پہننا) ٥٨٢٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۵۸۲۵ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عبد الوہاب ( بن عبد المجید ثقفی) نے ہمیں بتایا کہ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ایوب نے ہمیں خبر دی۔ ایوب نے عکرمہ سے فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الرَّبِيرِ روایت کی کہ رفاعہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے الْقُرَظِيُّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَعَلَيْهَا خِمَارٌ دی اور پھر عبد الرحمن بن زبیر قرظی نے اس سے أَخْضَرُ فَشَكَتْ إِلَيْهَا وَأَرَتْهَا خُضْرَةً نکاح کر لیا۔ حضرت عائشہ فرماتی تھیں: وہ سبز چادر بِجِلْدِهَا فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اوڑھے ہوئے تھی اس نے حضرت عائشہ کے پاس اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنِّسَاءُ يَنْصُرُ آکر شکایت کی۔ اپنے جسم پر ان کو نیل دکھائے۔ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا قَالَتْ عَائِشَةُ مَا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور عورتیں رَأَيْتُ مِثْلَ مَا يَلْقَى الْمُؤْمِنَاتُ ایک دوسرے کی مد دوسرے کی مدد کیا ہی کرتی تھیں۔ حضرت لَجِلْدُهَا أَشَدُّ حُضْرَةً مِنْ نَوْبِهَا قَالَ عائشہ کہنے لگیں: جیسی تکلیف مؤمن عورتیں اٹھاتی ہیں میں نے کبھی نہیں دیکھی کسی نے اٹھائی ہو ۔ وَسَمِعَ أَنَّهَا قَدْ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ وَمَعَهُ اس کا جسم تو اس کے کپڑے سے بھی زیادہ (گہرا) سبز ہے۔ عکرمہ کہتے تھے اور عبد الرحمن نے سنا کہ ابْنَانِ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا قَالَتْ وَاللهِ مَا لِي وه رسول الله صلى الله ع اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی ہے وہ إِلَيْهِ مِنْ ذَنْبِ إِلَّا أَنَّ مَا مَعَهُ لَيْسَ بھی آگئے۔ ان کے ساتھ ان کے دو بچے تھے جو بِأَغْنَى عَنِّي مِنْ هَذِهِ وَأَخَذَتْ هُدْبَةً دوسری عورت سے تھے۔ کہنے لگی، اللہ کی قسم ! مِنْ ثَوْبِهَا فَقَالَ كَذَبَتْ وَاللهِ يَا اس نے میرے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی، مگر رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَنْفُضُهَا نَفْضَ بات یہ ہے کہ جو اس کے پاس ہے وہ میرے لئے الْأَدِيمِ وَلَكِنَّهَا نَاشِةٌ تُرِيدُ رِفَاعَةَ اس سے زیادہ کار آمد نہیں اور اس نے اپنے فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کپڑے کے حاشیہ کو پکڑا۔ عبد الرحمن کہنے لگے۔