صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 235
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۳۵ ۷۷- کتاب اللباس بَاب ۱۷ : الْمِغْفَرُ خود (پہننا) ٥٨٠٨ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۵۸۰۸: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ مالک مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے ، زہری نے اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ فتح وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر خود پہنے رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ۔ أطرافه: ١٨٤٦، ٣٠٤٤، ٤٢٨٦۔ ہوئے مکہ میں داخل ہوئے۔ تشریح : الْمِغْفَرُ : خود (پہننا)۔ زیر باب حدیث میں ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے وقت مکہ میں داخل ہوئے آپ کے سر پر مغفہ یعنی لوہے کا خود تھا۔ جبکہ حضرت جابر کی روایت میں یہ ذکر ہے کہ اس وقت آپ نے سر پر سیاہ عمامہ پہنا ہو پہنا ہوا تھا۔ ان دوروایات میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے کہ آپ نے اس موقع پر خود (لوہے کی ٹوپی پہنا تھا یا سیاہ پگڑی۔ مغفر کے معنوں میں علامہ کرمانی نے لکھا ہے کہ مغفر لوہے کی زرہ ہے جو سر کے سائز کے مطابق تیار کی جاتی ہے، اور اسے ٹوپی کے نیچے پہنا جاتا ہے۔کے ان معنوں سے ان احادیث میں تطبیق کی گئی ہے کہ آپ نے عمامہ کے نیچے لوہے کی زرہ پہنی ہو گی۔ علامہ داوودی نے کہا ہے یہ ایسی زرہ ہے جس سے سر اور کندھوں کو ڈھانپا جاتا ہے۔ علامہ ابن بطال کہتے ہیں مغفر لوہے کی ٹوپی ہے یہ جنگی آلات میں سے۔ ابن الاثیر نے کہا یہ جالی دار بنی ہوئی زرہ ہوتی ہے زرہ پہنے والا اسے اپنے سر پر پہنتا ہے۔ (عمدة القاری جزء ۲۱ صفحه ۳۱۱،۳۱۰) باب ۱۸ : الْبُرُودُ وَالْحِبَرُ وَالشَّمْلَةُ چادریں، یمنی چادریں اور عام اوڑھنے والی چادریں وَقَالَ حَبَّابٌ شَكَوْنَا إِلَى النَّبِيِّ اور حضرت خباب بن ارت ) نے کہا: ہم نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ في صلى الله علیہ وسلم سے شکایت کی کہ مشرک ا (صحیح مسلم، کتاب الحج، باب جو از دخول مكة بغیر احرام ) (الكواكب الدرارى فى شرح صحیح البخاری، جزء ۲۱ صفحه ۶۸)