صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 223
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۲۳ ۷۷- کتاب اللباس میں نماز پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ غیر قوموں سے مرعوب ہو کر ان کی نقالی کی غلامانہ ذہنیت نہ ہو تو غیر قوموں اور غیر مسلموں کا بھی بنا ہوا کپڑا پہننا جائز ہے اور ان معاملات میں ہر قسم کے Racism اور نسلی تعصب سے پاک ہو کر جو اچھی چیز یا لباس جس قوم یا ملک کا بھی ہو ، استعمال کر لینا چاہیے۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: آج کل بھی لوگ کوٹ پتلون پہن کر نماز پڑھنا مکر وہ سمجھتے ہیں۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے زمانہ میں بھی شامی جبہ وغیرہ میں نماز پڑھنا مکر وہ سمجھا جاتا تھا، بوجہ اس کے کہ یہ رومیوں کا لباس تھا۔ یہ بتلایا گیا ہے کہ کفار کے ہاتھ سے بنے ہوئے کپڑے پہننا بھی جائز ہے۔ اسلام روح تسامح کی تعلیم دیتا ہے نہ تعصب اور تنگ دلی کی اور اقوم عالم میں تعاون کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح کتاب الصلاة، باب الصلوة في الجبة الشامية، جلد اول صفحہ ۴۶۹،۴۶۸) باب ۱۱ : لُبْسُ جُبَّةِ الصُّوفِ فِي الْغَزْوِ لڑائی میں اون کا چوغہ پہننا ٥٧٩٩ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۵۷۹۹ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا نے زَكَرِيَّاءُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے عامر (شعبی) سے، عامر الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ نے عروہ بن مغیرہ سے،عروہ نے اپنے باپ كُنتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي سَفَرٍ فَقَالَ انہوں نے کہا: میں ایک رات سفر میں نبی صلی اللہ أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ نَعَمْ فَنَزَلَ عَنْ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ نے پوچھا: کیا تمہارے رَاحِلَتِهِ فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي پاس کچھ پانی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ اپنی سَوَادِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ سواری سے اُترے اور اتنی دور چل کر گئے کہ میری الْإِدَاوَةَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَعَلَيْهِ نظر سے رات کی تاریکی میں پوشیدہ ہو گئے۔ پھر جُبَّةٌ مِنْ صُوفِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ آپ آئے اور میں نے چھاگل سے پانی ڈالا اور يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا حَتَّى أَخْرَجَهُمَا آپؐ نے اپنے منہ اور اپنے ہاتھوں کو دھویا اور