صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 224
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۷۔کتاب اللباس مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثُمَّ آپ ایک اون کا چونہ پہنے ہوئے تھے آپ اپنے مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ بازو آستینوں سے نہ نکال سکے۔آخر چونے کے فَقَالَ دَعْهُمَا فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا نیچے سے اُن کو نکالا اور اپنے بازوؤں کو دھویا۔پھر اپنے سر پر مسح کیا۔پھر میں نیچے جھکا کہ آپ کے موزے اُتاروں۔آپ نے فرمایا: انہیں رہنے دو کیونکہ میں نے ان کو وضو کی حالت میں پہنا تھا اور طَاهِرَتَيْنِ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا۔آپ نے ان پر مسح کیا۔أطرافه ۱۸۲، ۲۰۳ ۲۰۶، ۳۶۳، ۳۸۸، ۲۹۱۸، ۴۲۱، ۵۷۹۸ مريح۔لُبْسُ جُبَّةِ الصُّوفِ فِي الْغَزْو: لڑائی میں اون کاچو نہ پہنا باب نمبر 1 اور میں ایک ہی روایت دو الگ الگ عناوین باب کے تحت آئی ہے نیز دونوں ابواب میں یہ حدیث حضرت مغیرہ بن شعبہ سے ہی مروی ہے۔اس روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس لباس کا ذکر ہے اُسے باب ۱۰ کی روایت نمبر ۵۷۹۸ میں جبةٌ شَامِيَّة کہا گیا ہے یعنی شامی چوغہ۔اور بابا کی روایت نمبر ۵۷۹۹ میں جبة من صوفی یعنی اون کا چوغہ کہا گیا ہے۔ان متفرق روایات میں لباس کے ناموں میں تفاوت کسی غلطی کی بناء پر نہیں۔دراصل یہ شامی چوغہ ہی تھا جو کہ اُون کا بنا ہوا تھا۔اس لیے دوسری روایت میں اسے اُونی چوغہ کہا گیا ہے۔بعض روایات میں اس کا نام رومی چونہ بھی آیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں شام سلطنت روم کا ہی ایک حصہ تھا۔اس لیے یہ تینوں نام ہی درست ہیں۔علامہ ابن بطال نے لکھا ہے کہ امام بخاری نے عنوان باب کے ان الفاظ سے امام مالک و غیرہ کی ان روایات کا رد کیا ہے جن میں اون کے کپڑے پہنا مکروہ قرار دیا گیا ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ اونی کپڑے زاہد کہلانے کیلئے پہنے جاتے تھے۔(فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۳۳۱) بَاب ۱۲ : الْقَبَاءُ وَفَرُّوجُ حَرِيرِ وَهُوَ الْقَبَاءُ قباء اور ریشمی فروج اور یہ بھی قباء ہی ہوتی ہے وَيُقَالُ هُوَ الَّذِي لَهُ شَقٌ مِنْ خَلْفِهِ۔اور کہا جاتا ہے کہ یہ وہ قباء ہے جس میں پیچھے چاک ہوتا ہے۔٥٨٠٠: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۵۸۰۰ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ (سنن الترمذی، ابواب اللباس، باب ما جاء فى لبس الجبة والخفين) (ذخيرة العقبى شرح سنن النسائي، كتاب الطهارة، باب المسح عَلَى الخُفَّيْنِ فِي السَّفَرِ ، جزء۳ صفحه ۱۶۳)