صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 222 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 222

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۷۔کتاب اللباس بَاب ١٠: مَنْ لَبِسَ جُبَّةٌ ضَيِّقَةَ الْكُمَّيْنِ فِي السَّفَرِ سفر میں جس نے تنگ آستینوں کا چوغہ پہنا ٥٧٩٨: حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ۵۷۹۸ قیس بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشِ عبد الواحد بن زیاد) نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الضُّحَى قَالَ ہم سے بیان کیا ، اعمش نے کہا: ابوالضحیٰ نے مجھ حَدَّثَنِي مَسْرُوقٌ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ سے بیان کیا، ابوالضحیٰ نے کہا مسروق نے مجھے بتایا، بْنُ شُعْبَةَ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى الله انہوں نے کہا: حضرت مغیرہ بن شعبہ نے مجھے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ فَتَلَقَّيْتُهُ سے بیان کیا۔وہ کہتے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ اپنی کسی ضرورت کے لئے گئے۔پھر واپس آئے تو میں پانی لے کر آپ سے ملا۔آپ نے وضو کیا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهِ فَكَانَا اور آپ شامی چوغہ پہنے ہوئے تھے۔آپ نے کلی کی اور ناک میں پانی لیا اور اپنے منہ کو دھویا پھر ضَيِّقَيْنِ فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ بَدْنِهِ اپنے ہاتھوں کو آستینوں سے نکالنے لگے تو وہ فَغَسَلَهُمَا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَعَلَى من تھیں آپ نے چونے کے نیچے سے اپنے ہاتھوں کو نکالا اور ان کو دھویا اور اپنے سر اور موزوں پر مسح کیا۔أطرافه : ۱۸۲، ۲۰۳ ۲۰۶، ۳۶۳، ۳۸۸، ۲۹۱۸، ٤٤۲۱ ٥٧٩٩۔شريح : مَنْ لَبِسَ جُبَّةٌ ضَيْقَةَ الْكُيْنِ فِي السَّفَرِ : سفر میں جس نے تنگ آستینوں کا چوغہ پہنا۔امام بخاری جب کسی باب کو من سے شروع کرتے ہیں تو اس میں اس موضوع پر اٹھنے والے سوال کا جواب معین اشخاص کو مد نظر رکھتے ہوئے استدلال کی صورت میں روایتوں کے انتخاب اور ترتیب سے واضح کرتے ہیں۔زیر باب روایات میں بھی یہی مقصد پیش نظر ہے۔امام بخاری نے کتاب الجہاد میں عنوان باب الجبة في الشَّفَرِ والحَرب اور یہاں کتاب اللباس میں عنوان باب مَن لَبِسَ جُبَّةٌ ضَيَّقَةَ الْكُبَيْنِ فِي السَّفَرِ قائم کیا ہے۔ان عناوین سے امام بخاری نے یہ اشارہ کیا ہے کہ تنگ آستینوں والا جبہ پہننا سفری ضرورت کیلئے تھا اور کتاب الصلوۃ میں الصَّلاة في الحبة الشامية كا باب قائم کیا ہے۔اس سے یہ اشارہ کیا ہے کہ غیر ملکی لباس پہننا نہ صرف جائز ہے بلکہ اس