صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 211
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۱۱ ۷۷- کتاب اللباس ابْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ کیا کہ (نضر بن شمیل نے ہمیں خبر دی کہ عمر بن أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ ابی زائدہ نے ہمیں بتایا۔ عون بن ابی جحیفہ نے ہم أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ ۔۔ فَرَأَيْتُ بِلَالًا جَاءَ سے بیان کیا۔ عون نے اپنے باپ حضرت ابو جحیفہ بِعَنَزَةٍ فَرَكَزَهَا ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے بلال کو فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دیکھا کہ وہ ایک سم دار چھڑی لائے اور اسے گاڑ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي حُلَّةٍ مُشَمِّرًا فَصَلَّى یا پھر نماز کی تکبیر کہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ رَكْعَتَيْنِ إِلَى الْعَنَزَةِ وَرَأَيْتُ النَّاسَ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک جوڑا پہنے نکلے جسے آپ نے اوپر اٹھایا ہوا تھا۔ آپ نے اس چھڑی وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ وَرَاءِ کی طرف منہ کر کے دو رکعتیں پڑھیں اور میں الْعَنَزَةِ۔ نے دیکھا کہ لوگ اور جانور آپ کے سامنے سے اس چھڑی کے پرے سے گزرتے تھے۔ أطرافه: ۱۸۷، ۳۷۶ ، ۱۹۰ ، ۱۹۹، ۵۰۱ ، ٦٣٣، ٦٣٤ ، ٣٥٥٣، ٣٥٦٦، ٥٨٥٩۔ بَاب ٤ : مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فَهُوَ فِي النَّارِ جو (کپڑا) ٹخنوں سے نیچے ہوا تو وہ آگ میں گیا ٥٧٨٧: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۵۷۸۷ آدم بن ابی ایاس) نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ سعید بن ابی سعید عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ مقبری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا رضی اللہ عنہ سے ، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي عليہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: تہ بند کا جو النَّارِ۔ حصہ بنوں سے نیچے ہوا تو وہ آگ میں گیا۔ عَلَزَة: أَطْوَلُ مِنَ الْعَصَا وَأَقْصَرُ مِنَ الرفح فيها زج- (ارشاد الساری جزء ۸ صفحہ ۴۱۸) عنزة لاٹھی سے لمبی اور نیزے سے چھوٹی ہوتی ہے اور اس میں آئی لگی ہوتی ہے۔