صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 185
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۸۵ ۷۶ - كتاب الطب شَفَانِي وَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى أَحَدٍ مِنَ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں: اس پر نبی صلی علی ام اس النَّاسِ شَرًّا ۔ کنویں پر گئے اور اس کو نکالا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ وہ کنواں ہے جو مجھ کو دکھلایا گیا تھا۔ اس کا ایسا پانی تھا جیسے مہندی کا پانی اور وہاں کی کھجوروں کے درخت ایسے تھے جیسے سانپوں کے پھن ۔ عروہ نے کہا: کیا پھر وہ جادو نکالا گیا؟ حضرت عائشہ نے کہا میں نے آپ سے پوچھا: آپ نے جادو کیوں نہیں کھلوایا ؟ آپ نے فرمایا: اب تو بخدا مجھے اللہ نے شفا دے دی ہے اور میں برا مناتا ہوں کہ میں لوگوں میں سے کسی کے بر خلاف شر بھڑ کاؤں۔ أطرافه: ۳۱۷۵، ٣٢٦٨، ٥٧٦٣، ٥٧٦٦، ٦٠٦٣، ٦٣٩١۔ باب ٥٠ : السِّحْرُ جادو ٥٧٦٦ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۵۷۲۶ عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّى عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ باپ نے نے حضرت عائشہ سے ، وہ بیان کرتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا یہاں تک کہ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا فَعَلَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عِنْدِي دَعَا اللہ آپ کو یہ خیال ہوتا تھا کہ آپ کوئی کام کر رہے ہیں حالانکہ آپ نے وہ کیا نہ ہوتا۔ ایک دن جب وَدَعَاهُ ثُمَّ قَالَ أَشَعَرْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ کہ آپ میرے پاس تھے۔ آپؐ نے اللہ سے اللهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ بہت بہت دعا کی پھر فرمایا: عائشہ" کیا تمہیں معلوم قُلْتُ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ ہوا کہ اللہ نے جو میں نے اس سے دریافت جَاءَنِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ کیا تھا اس کے متعلق مجھے بتلایا ہے ؟ میں نے کہا: