صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 141
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۴۱ ۷۶ - كتاب الطب کے حق کا مطالبہ دستور کے مطابق کیا، جس کا انکار کیا گیا اور یہ انکار عرفِ عام میں سخت معیوب تھا۔ مگر مذہبی اختلاف کی وجہ سے انہیں مہمان نوازی کے حق سے محروم رکھا گیا۔ جب قبیلہ کا سردار اُن کا محتاج ہوا تو انہوں نے بھی علاج کی اُجرت لی لیکن اس اُجرت کے استعمال میں انہیں تردد ہوا اور اُس سے فائدہ نہیں اُٹھایا، تا وقتیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو اس سے فائدہ اُٹھانے کی اجازت نہ دی۔ تقویٰ کا یہ لطیف احساس جہاں تزکیہ نفس میں صحابہ کے علو مرتبت پر دال ہے، وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیر قدسی کی بھی شہادت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ (الجمعة:۳) کہ یہ رسول اپنے متبعین کا رم تزکیہ نفوس کرتا ہے۔ پس صحابہ کرام کا اجرت میں حاصل شدہ مال سے رکنا صحابہ کے پاک نفس ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔“ 66 (صحیح بخاری، ترجمه و شرح، كتاب الإجارة، باب مَا يُعْطَى فِي الرُّقْيَةِ عَلَى أَحْيَاءِ الْعَرَبِ جلد ۴، صفحہ ۲۵۲ تا ۲۵۴) بَاب ٣٥ : رُقْيَةُ الْعَيْنِ نظر لگنے پر دم کرنا ٥٧٣٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۵۷۳۸ : محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ (ثوری) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا معبد بن خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ شَدَّادٍ خالد نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا میں نے عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ عبد الله بن شداد سے سنا۔ انہوں نے حضرت عائشہ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ رَضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں: أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَى مِنَ الْعَيْنِ نبی صلی اللہ ہم نے مجھے حکم دیا یا ( فرمایا کہ ) آپ نے حکم دیا کہ نظر لگنے کی صورت میں دم کر لیا جائے۔ ٥٧٣۹ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ۵۷۳۹ محمد بن خالد نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ بن وهب بن عطیہ مشقی نے ہمیں بتایا کہ محمد بن الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حرب نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن ولید زبیدی