صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 89 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 89

صحیح البخاری جلد ۱۴ سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ۔ ۸۹ ۷۶ - كتاب الطب پیدا ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ باہر آئے آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو نہ تو دم کرواتے ہیں اور نہ شگون لیتے ہیں اور نہ داغ لگواتے ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ حضرت عکاشہ بن محصن نے سن کر کہا: یا رسول اللہ ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اس پر ایک دوسرا کھڑا ہوا اور پوچھا: کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا عکاشہ اس میں تم پر سبقت لے گیا۔ أطرافه: ٣٤١٠ ، ٥٧٥٢ ، ٦٤٧٢، ٦٥٤١۔ تشريح ۔ مَنِ اكْتَوَى أَوْ كَوَى غَيْرَهُ وَفَضْلُ مَنْ لَمْ يَكْتُو: جس نے خود داغ لگوایا یا دو سرے کو داغ لگایا اور اس شخص کی خوبی جو داغ نہ لگوائے۔ عنوان باب کے تین حصے ہیں۔ (۱) مَنِ اكْتَوَى (۲) أَو كَوَى غَيْرَهُ (۳) اور فَضْلُ مَنْ لَمْ يَكُتو - علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں اکتوی کے معنی ہیں خود کو داغنا اور گوی کا لفظ عام ہے یعنی خود کو داغنا یا دوسرے کو داغنا۔ ان دو میں امام بخاری نے داغ لگانے یا لگوانے کے جواز کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اور تیسرے فَضْلُ مَنْ لَمْ يَكْتَو میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس تکلیف دہ علاج کو نہ کرنا بہتر ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۱ صفحه ۲۴۳) مختلف طریقہ ہائے علاج میں سے یہ طریقہ علاج پہلے زمانوں میں بھی تھا اور بعض جدید صورتوں میں اب بھی ہے جس سے فاسد مادوں کو جلا کر علاج کیا جاتا ہے ۔ دورِ جدید میں اس کی متنوع قسمیں متعارف ہو چکی ہیں۔ غرض جلانے کی مختلف صورتیں مختلف قوموں اور مختلف علاقوں میں رائج تھیں اور آج بھی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقہ علاج کو پسند نہیں فرمایا مگر انتہائی مجبوری کی صورت میں اس کی اجازت دی ہے۔ کیونکہ یہ انتہائی تکلیف دہ صورت ہے مگر آج کے زمانے میں بہت موثر اینٹی سیپٹک اور اینٹی بائیوٹک ادویات ایجاد ہو چکی ہیں جو جراثیم کش ہیں۔ ہیں۔ اس لیے زخموں وغیرہ کو جلانے کی ضرورت نہیں رہی ہے جس کا ایک مقصد جراثیم کو مارنا ہی ہوتا تھا۔ انہی تھیزیا (Anaesthesia) و دیگر ایسے جدید طریقے ایجاد ہو گئے ہیں جن سے مریض دوران علاج سرجری وغیرہ کی تکلیف محسوس نہیں کرتا۔ اس لیے اب داغ لگانے کی ضرورت کسی استثنائی صورت میں ہو بھی تو اس سے ہونی والی تکلف کو رفع کیا جا سکتا ہے۔ مکرم و محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود الحسن نوری صاحب ایڈ منسٹریٹر طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ لکھتے ہیں: داغ لگوانا یا داغ لگانا ایک عرصہ دراز سے طریقہ علاج چلا آ رہا ہے یہ مختلف طریقوں سے عمل کیا جاتا ہے: Laser (3) Chemical (2) Hot Plate (1)