صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 86
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۸۶ ۷۶ - كتاب الطب احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمْ فِي رَأْسِهِ مِنْ صلى الله علیہ وسلم نے شقیقہ کی وجہ جو آپ کو تھا شَقِيقَةٍ كَانَتْ بِهِ۔ اپنے سر پر پچھنے لگوائے اور آپ اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے۔ أطرافه: ۱۸۳۵، ۱۹۳۸، ۱۹۳۹، ۲۱۰۳، ۲۲۷۸، ۲۲۷۹ ، ٥٦٩۱، ٥٦٩٤ ، 5695، 5699 ، 5700 ۔ ٥٧٠٢ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ :۵۷۰۲ اسماعیل بن ابان نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَسِيلِ قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ (عبد الرحمن) بن غسیل نے ہم سے بیان کیا۔ بْنُ عُمَرَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انہوں نے کہا مجھ سے عاصم بن عمر نے بیان کیا۔ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عاصم نے حضرت جابر بن عبد اللہ (انصاری) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ يَقُولُ إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ وسلم سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: ماتے تھے: تمہارے علاجوں خَيْرٌ فَفِي شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ شَرْطَةِ مِحْجَمٍ میں سے اگر کسی میں بہتری ہے تو شہد کے شربت میں أَوْ لَدْعَةٍ مِنْ نَارٍ وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ یا پچھنے لگانے میں یا آگ سے جلانے میں ہے اور أطرافه: ٥٦٨٣، ٥٦٩٧، ٥٧٠٤۔ میں نہیں پسند کرتا کہ میں داغ لگاؤں۔ باب ١٦ : الْحَلْقُ مِنَ الْأَذَى تکلیف کی وجہ سے سر منڈوانا ٥٧٠٣ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ۵۷۰۳ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن عَنْ أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا عَنِ زِید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے روایت کی۔ (ایوب نے) کہا میں نے مجاہد سے سنا۔ مجاہد ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبٍ هُوَ ابْنُ عُجْرَةَ نے (عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے ، انہوں نے قَالَ أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حضرت کعب سے جو عجرہ کے بیٹے ہیں، روایت وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ کی۔ انہوں نے کہا جس سال حدیبیہ کی صلح ہوئی بُرْمَةٍ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَنْ رَأْسِي فَقَالَ في صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں