صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 33 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 33

صحیح البخاری جلد ۱۳ ٣٣ ۶۷ - كتاب النكاح رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا گزرا۔آپ نے پوچھا: اس کے متعلق تم کیا کہتے خَيْرٌ مِّنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا۔ہو ؟ انہوں نے کہا: یہ اس قابل ہے کہ اگر شادی کا پیغام بھیجے تو اس کا کہیں بھی نکاح نہ کیا جائے اور طرفه: ٦٤٤٧ - اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ ہو اور اگر بات کرے تو توجہ سے نہ سنی جائے۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص ایسا ہے کہ اگر پہلے شخص جیسے انسانوں سے زمین بھر بھی جائے تو بھی یہ ان سے بہتر ہے۔بَاب ١٦: الْأَكْفَاءُ فِي الْمَالِ وَتَزْوِيحِ الْمُقِلِ الْمُفْرِيَةَ مال میں برابر کے لوگ اور غریب کا مال دار عورت سے شادی کرنا ٥٠٩٢ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۵۰۹۲: یحی بن نگیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے ، عقیل نے شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَأَلَ ابن شہاب سے روایت کی۔انہوں نے کہا: عروہ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَ إِنْ خِفْتُمْ أَلا نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ تُقْسِطُوا في اليثى (النساء:٤) قَالَتْ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: وَإِنْ خِفْتُم سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: میرے بھانجے یہ يَا ابْنَ أُخْتِي هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي وہ یتیم لڑکی ہے جو اپنے سر پرست کی پرورش میں حَجْرٍ وَلِيْهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا ہو اور وہ اس کی خوبصورتی اور اس کی جائیداد پر وَيُرِيدُ أَنْ يُنْتَقِصَ صَدَاقَهَا فَنُهُوا عَنْ للچاتے ہوئے یہ چاہے کہ اس سے نکاح کرلے اور نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا فِي إِكْمَالِ اس کو مہر بھی کم دے۔اس لئے انہیں ایسی یتیم الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا بِنِكَاحَ مَنْ سِوَاهُنَّ لڑکیوں سے نکاح کرنے سے روک دیا سوائے اس قَالَتْ وَاسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ الله کے کہ وہ پورا پورا حق مہر ادا کرنے میں انصاف صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ کریں۔اور انہیں ان کے سوا عورتوں سے نکاح ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور اگر تم ڈرو کہ تم بتامی کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے۔“