صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 560 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 560

صحیح البخاری جلد ۱۳ يَدِهِ۔ ۵۶۰ ۷۴ - كتاب الأشربة نہیں۔ حضرت سہل کہتے تھے : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ میں پیالہ رکھ دیا۔ أطرافه: ٢٣٥١، ٢٣٦٦ ، ٢٤٥١ ، ٢٦٠٢، ٢٦٠٥۔ تشريح : هَلْ يَسْتَأْذِنُ الرَّجُلُ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ فِي الشَّرْبِ لِيُعْلِيَ الْأَكْبَرَ : آدی پینے کے متعلق اس شخص سے اجازت مانگے جو اس کے دائیں طرف ہو تا کہ وہ بڑے کو دے دے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو اس بات کا اتنا خیال تھا کہ ایک دفعہ آپ کی مجلس میں بہت سے صحابہ بیٹھے تھے کوئی شخص آپ کے لئے کچھ دودھ لے کر آیا اور کہا : يَا رَسُولَ الله (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ دودھ لے لیں۔ آپؐ نے اُس سے دودھ لے لیا اس میں سے تھوڑا سا پینے کے بعد آپ نے دائیں بائیں دیکھا ممکن ہے کہ اس وقت تنگی رزق ہو یا آپ کو خیال آیا ہو کہ حضرت ابو بکر کو کچھ تکلیف ہے کیونکہ اُن دنوں ان کی صحت کچھ کمزور تھی، آپ نے چاہا کہ وہ دودھ حضرت ابو بکر کو دے دیا جائے مگر حضرت ابو بکر آپ کے بائیں طرف بیٹھے تھے اور دائیں طرف ایک چھوٹا سا لڑکا بیٹھا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس لڑکے کو دیکھ کر فرمایا کہ حق تو دائیں طرف بیٹھنے کی وجہ سے تمہارا ہے مگر میں یہ دودھ حضرت ابو بکر کو دینا چاہتا ہوں اور وہ بائیں بیٹھے ہیں اگر تم اجازت دو تو یہ و دے دوں۔ وہ لڑکا کہنے لگا اگر حق دائیں والے کا ہے تو میں یہ دھ میں حضرت ابو بکرؓ کو دے د دودھ تبرک نہ دوں گا۔ یہ ایک عشقیہ رنگ ہے اُس وقت اس لڑکے کو دودھ نظر نہیں آتا تھا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تبرک نظر آتا تھا جب اس لڑکے نے یہ کہا کہ میں یہ تبرک نہیں چھوڑتا تو آپ نے وہ دودھ اسی لڑکے کو دے دیا۔ عام طور پر اتنے چھوٹے لڑکوں کو مجلس میں ڈور بٹھایا جاتا تھا مگر اُس دن وہ لڑکا اتفاقار سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا۔ اب دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل چاہتا تھا کہ دودھ حضرت ابو بکر کو دے دیں مگر آپ نے دائیں کو ملحوظ رکھا اور وظ رکھا اور دودھ انہیں نہ دیا۔ اس یں نہ دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خاص طور پر دائیں کا خیال تھا۔“ (دائیں کو بائیں پر فوقیت حاصل ہے، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحہ ۴۹۰)